خطبات محمود (جلد 28) — Page 162
خطبات محمود 162 سال 1947ء زیادہ سے زیادہ قربانی کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کا دل بھی کھل جاتا ہے اور ی جب کمزوری ایمان کا ثبوت دیتے ہوئے قربانی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا دل بھی سکڑ جاتا ہے۔اب یہ تمہارے ہاتھوں میں ہے کہ چاہے اپنے ایمانوں کو مضبوط کر کے اپنے دلوں میں وسعت پیدا کر لو اور چاہے اپنے ایمانوں کو کمزور کر کے اپنے دلوں کو سکیٹر لو۔ان دونوں حالتوں کی کے نتائج واضح اور ظاہر ہیں۔تم نے اللہ تعالیٰ کے نشانات دیکھے ہیں اور تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیوض سے متمع ہوئے ہو۔اب تم آسانی سے فیصلہ کر سکتے ہو اور تم آسانی سے سمجھ سکتے ہو کہ ایمان کو کمزور کر کے دل کو سکیڑنا اچھا ہے یا ایمان کو مضبوط کر کے دل کا پھیلانا اچھا ہے۔یہ دن آئے ہیں اور چلے جائیں گے اور ہمارا خدا ان کو اچھے رنگ میں گزار دے گا۔لیکن وہ لوگ جنہوں نے بخل سے اپنے دلوں کو سکیڑ لیا وہ کف افسوس ملتے رہ جائیں گے۔لیکن اُن کا اس نے وقت پچھتانا بے سود، بے کار اور بے نتیجہ ہو گا۔اور وہ لوگ جو اب اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے دلوں کو وسیع کریں گے وہ عظیم الشان ثواب کے مستحق ہوں گے۔پس اپنے آپ کو ثواب سے محروم نہ کرو اور دل کھول کر قربانیاں کرو۔جو لوگ قربانیاں کریں گے وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں گے اور جولوگ پیچھے رہ جائیں گے وہ پچھتائیں گے لیکن اُس وقت کچھ بن نہیں سکے گا۔“ الفضل 7 مئی 1947 ء )