خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 117

خطبات محمود 117 سال 1947ء۔جو کچھ پوچھنا چاہیں پوچھ لیں۔چنانچہ کراچی سے واپسی پر وہ حیدرآباد کے اسٹیشن پر مجھے ملنے کے لئے آئے اور کہنے لگے میں نے فیصلہ کر لیا ہے اب میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ انہوں نے وہاں اسٹیشن پر ہی بیعت کی۔پھر ہم وہاں سے اپنی زمینوں کی طرف چلے گئے۔اب واپسی پر حیدر آباد کے اسٹیشن پر وہ بیوی سمیت ملنے کے لئے آئے اور ان کی بیوی یعنی میاں عبداللہ خان صاحب مرحوم کی لڑکی نے مجھے کہا کہ اب تو آپ کا شکوہ دور ہو گیا ہے اور میرے خاوند نے بیعت کر لی ہے۔اب تو آپ میرے والد صاحب کا جنازہ پڑھیں۔چنانچہ میں نے اُن سے وعدہ کیا کہ میں جنازہ پڑھوں گا۔میرے دل نے محسوس کیا کہ گوخان صاحب مرحوم نے ایک غلطی کی تھی مگر کی ضرور نیک ارادہ سے تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی غلطی کو نیکی سے بدل دیا اور وہ مستحق ہیں کہ ان کا جنازہ پڑھا جائے۔چوتھا جنازہ ایک اور دوست کا ہے جو کہ ایمن آباد میں فوت ہوئے وہاں بہت کم احمدی جنازہ پڑھنے والے تھے۔پانچواں جنازہ ایک نوجوان ولی محمد صاحب کا ہے۔دشمنوں نے ان کو مخالفت کی وجہ سے ضلع امرتسر میں قتل کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ وہ مخالفت دینی تھی یا دنیوی رنگ میں تھی۔بہر حال اس کو ظالمانہ طور پر قتل کیا گیا ہے۔وہ کھیت سے چارہ کاٹ کر سر پر اٹھائے آرہا تھا کہ دشمنوں نے پیچھے سے حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔اور پھر اس سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ اردگرد کی احمدی جماعتوں نے ڈر کے مارے اس کا جنازہ نہیں پڑھا۔جس کے معنی یہ ہیں کہ بعض لوگ دنیا کو دین پر مقدم کرتے ہیں اور دین کے مقابلہ میں اپنی جانوں کو زیادہ قیمتی سمجھتے ہیں۔حالانکہ احمدیوں کو چاہیئے کہ جب ایک بھائی پر مصیبت آئے تو دوسرے اس کی مصیبت میں شامل ہوں تا کہ دشمن یہ محسوس کرے کہ احمدی لوگ اپنے بھائی کے لئے جان قربان کرنے سے بھی دریغ این نہیں کرتے تا کہ آئندہ دشمن کو اس قسم کے افعال کی جرات نہ ہو۔یہ پانچ جنازے میں عصر کی نماز کے بعد پڑھاؤں گا۔“ ( الفضل 2 مئی 1947ء)