خطبات محمود (جلد 28) — Page 104
خطبات محمود 104 سال 1947ء چوتھا آدمی ایسا ہونا چاہیئے جو کہ ایسے طور پر چلنے میں مہارت رکھتا ہو کہ اس کے پاؤں کی آہٹ محسوس نہ ہو۔تیسرا آدمی تالے کھول کر سامان نکال کر چوتھے آدمی کو دیتا جاتا ہے اور وہ باہر والوں کو پکڑا تا جاتا ہے۔یہ چار ہو گئے۔پھر ایک پانچویں آدمی کی یہ ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ گلی کے سرے پر کھڑا رہے کہ اگر کسی شخص کو آتا جاتا دیکھے تو سیٹی بجادے یا کوئی اور اشارہ کر دے تا کہ تمام آخری وقت پر ہوشیار ہو جائیں۔یہ پانچ ہو گئے۔پھر چھٹا ایک اورایسا ہونا چاہیئے کہ جو سفید کپڑے پہنے ہوئے ہو اور کسی کو اس کے چلنے پھرنے پر شک نہ گزرے۔کیونکہ ہم تو ننگ دھڑنگے ہوئے اگر ہمیں کوئی دیکھ لے تو وہ یقیناً ہم پر چور ہونے کا شبہ کرے۔لیکن یہ آدمی ایسے کپڑوں میں پھرتا ہے کہ کسی کو اس پر شک نہیں گزرسکتا ہم نقدی اور زیورات وغیرہ اس کے سپر د کر دیتے ہیں۔وہ نہایت اطمینان سے مال لے کر چلا جاتا ہے اور ساتویں کو جو سنا ر ہوتا ہے دے دیتا ہے جو کہ سونے کو ہیرے اور جواہرات کو لاکھ سے جدا کرتا ہے اور اس کو پگھلا کر ایک نئی شکل دیتا ہے اور اس سونے کو آگے بیچتا ہے اور ہم سب آپس میں برابر برابر تقسیم کر لیتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول فرماتے میں نے اُسے کہا کہ اگر تمہاری اتنی محنت کے بعد وہ سنار تمہارا سونا کھا جائے تو پھر تم کیا کر سکتے ہو؟ تو بے اختیار اس چور کے منہ سے نکلا کیا وہ اتنا حرام خور ہو گا کہ دوسرے کا مال کھا جائے گا؟ میں نے کہا بس اب تم سمجھ گئے ہو۔معلوم ہوا نا کہ دوسروں کا مال کھانا حرام ہے۔غرض چونکہ حرام مال کے لئے بھی محنت کرنی پڑتی ہے اس لئے بعض لوگ حرام خوری کو بھی حلال خوری کی طرح جائز سمجھتے ہیں۔جو لوگ عیاشیوں میں پڑتے ہیں وہ بھی قربانیاں کرتے ہیں۔وہ راتوں کو جاگتے ہیں ، دماغ ان کا خراب ہو جاتا ہے۔اور جو لوگ کچنیاں رکھتے ہیں وہ ان کے لئے کتنی قربانیاں کرتے ہیں۔اپنی جائیداد میں تباہ کر دیتے ہیں اور خود بالکل مفلس اور کنگال ہو جاتے ہیں۔پس کوئی بُرا کام بھی ایسا نہیں جس میں قربانی نہ کرنی پڑتی ہو۔لیکن سوال یہ ہے کہ ان افعال کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ لوگ اولادوں کے لئے قربانی کرتے ہیں کہ یہ بعد میں ہمارے نام روشن کریں گی حالانکہ نام روشن کرنے والے تو بہت کم ہوتے ہیں اور بد نام کرنے والے بہت زیادہ ہوتے ہیں بلکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اولاد میں سے کسی کو اگر کوئی اچھا عہدہ مل جائے تو وہ اپنے والدین سے ملنے میں شرم محسوس کرتی ہے۔