خطبات محمود (جلد 28) — Page 103
خطبات محمود 103 سال 1947ء اور وہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر چوری کرتا ہے۔اب دیکھو کہ چوری جیسا ذلیل کام بھی قربانی چاہتا ہے۔حضرت خلیفہ اول کے پاس ایک دفعہ ایک چور علاج کرانے کے لئے آیا تو آپ نے اسے وعظ و نصیحت کرنی شروع کی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہاتھ پاؤں اس لئے نہیں دیئے کہ تم ان سے حرام روزی کھایا کرو بلکہ اس لئے دیئے ہیں کہ تم ان کے ذریعہ حلال روزی کما کر کھایا کرو۔تم چوری کرنا چھوڑ کیوں نہیں دیتے اور کیوں حلال روزی نہیں کماتے ؟ جب آپ نے اسے یہ وعظ و نصیحت کی تو اس کی آنکھیں غصے کی وجہ سے سُرخ ہو گئیں۔اور کہنے لگا اچھا مولوی صاحب! اگر یہ حلال کی روزی نہیں تو پھر اور کونسی حلال کی روزی ہے۔آپ لوگ میٹھی نیند سو رہے ہوتے ہیں اور ہم مارے مارے پھر رہے ہوتے ہیں۔اگر کسی کو ہمارے متعلق علم ہو جائے تو وہ ہمیں گولی مار کر ہی ہے مار دے۔ہم اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر چوری کرتے ہیں۔پھر اس سے بڑھ کر اور کونسی حلال ہے روزی ہو سکتی ہے۔حضرت خلیفہ اول نے سمجھا کہ اسے چوری کی عادت پڑ چکی ہے اور یہ کام کرتے کرتے اس کی فطرت مسخ ہو چکی ہے اور اب یہ کام اس کی نگاہ میں بُرا نہیں رہا۔اس لئے اب بحث کے رنگ میں سمجھانے سے کوئی خاص فائدہ اسے نہیں ہوسکتا۔چنانچہ آپ فرماتے کہ میں نے بات کو ٹلا دیا اور اِدھر اُدھر کی باتیں شروع کر دیں تا کہ یہ بات اسکے ذہن سے نکل جائے۔پھر میں نے اسے پوچھا اچھا تم یہ بتاؤ کہ تم چوری کس طرح کرتے ہو؟ اُس نے کہا کہ کیلا آدمی چوری نہیں کر سکتا بلکہ ہم چھ سات آدمی مل کر چوری کرتے ہیں۔ان میں سے ایک آدمی گھر کا راز دار ہوتا ہے اور وہ عام طور پر سقہ یا چوہڑا وغیرہ ہوتا ہے کیونکہ رازدار کے بغیر چوری ہو نہیں سکتی۔وہی کمروں اور دروازوں کے متعلق بتاتا ہے اور وہی اس بات کے متعلق اطلاع دیتا ت ہے کہ نقدی اور زیورات کہاں ہیں۔اس کے بعد ایک ایسے آدمی کی ضرورت ہوتی ہے جسے سیندھ لگانی آتی ہو۔اور وہ ایسے طور پر اوزاروں کو استعمال کرے کہ سیندھ لگانے کی آواز پیدا نہ ہو اور اس کی آواز سے گھر والے جاگ نہ پڑیں۔پھر ایک تیسر آدمی ایسا ہونا چاہیئے جو تالے وغیرہ کھولنے میں مشاق ہو۔جب دوسرا آدمی سیندھ لگا چکتا ہے تو وہ ایک طرف ہو جاتا ہے اور پھر اس تیسرے آدمی کا کام شروع ہوتا ہے اور وہ صندوقوں کے تالے کھولتا جا تا ہے۔پھر ایک