خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 99

خطبات محمود 99 سال 1947ء اُن کے ہاتھوں سے چھین لیں۔دو پیسے کی مہنگائی تو ان کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے لیکن اتنی بڑی ہے مہنگائی جو کہ قوم کے مال کو تباہ کرنے کا موجب بنتی ہے ان کو نظر نہیں آتی۔ہندو اپنے روپیہ کو اپنی قوم میں ہی چکر دیتا رہتا ہے۔لیکن اس کے مقابلہ میں مسلمان اپناروپیہ دوسری قوم کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ہندو یہ سمجھتا ہے کہ اگر میرا روپیہ میری قوم کے پاس جائے گا تو وہ بھی میرے کام آئے گا لیکن مسلمان خود جا کر ہندو کو دے آتا ہے کہ یہ لے کر اس سے میرے خلاف تیاری کرو۔حالانکہ مسلمانوں کے پاس پہلے ہی بہت کم روپیہ ہے۔اسی طرح قومی ترقی کے لئے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اپنے اندر طاقت پیدا کی جائے اور اپنے جسموں کو مضبوط بنایا جائے۔مثل مشہور ہے کہ کسی جگہ معمولی سی بات پر دو آدمیوں میں جھگڑا پیدا ہوا جس سے زیادہ بدمزگی پیدا ہوگئی۔ایک طرف ایک ہی آدمی تھا اور دوسری طرف دو باپ بیٹا تھے۔انہوں نے جب اس اکیلے کو پکڑ کر مارنا شروع کیا تو اس کی چیخ نکل گئی۔جب اس کی چیخ کی نکلی تو بیٹے نے باپ سے کہا۔ابا جان یہ تو وہی بلا معلوم ہوتی ہے جو ہمارے جانوروں کو کھا جاتی تھی۔وہ بھی اسی قسم کی چیخ مارتی تھی۔اس پر انہوں نے اسے اور بھی مارنا شروع کیا۔آخر جب اس کی حالت خراب ہونے لگی۔تو انہوں نے اس کو چھوڑ دیا۔پاس ہی کوئی کشمیری بھی بیٹھا ہوا تھا۔جب انہوں نے اس کو چھوڑا تو کشمیری اس مار کھانے والے سے کہنے لگا چُپ کر چُپ کر توں تے چُپ کر کے مار کھالئی۔خدا دی قسم جے میں ہندی تے تھک تھک کے منہ بھر دیندی۔( کشمیری اردو یا پنجابی صحیح نہیں بول سکتے۔اس لئے وہ اکثر اپنے لئے مونث کا صیغہ ہی استعمال کرتے ہیں۔یعنی تم نے تو خاموشی سے مار کھالی لیکن اگر مجھے مارتے تو میں تُھوک تُھوک کر ان کا منہ بھر دیتا۔اگر کسی شخص میں جسمانی لحاظ سے طاقت نہ ہو اور وہ دشمن کے مقابلہ میں کمزور ہو تو وہ بھی مونہہ پر تھوکنے کے سوا اور کیا کر سکتا ہے۔حالانکہ مومن کو ایسا ہوشیار ہونا چاہیئے کہ دشمن جب بھی اس کی طرف دیکھے تو اُسے بھاگتا ہوا پائے۔جسم کی مضبوطی کے لئے سب سے ضروری چیز ورزش ہے۔ورزش سے جسم میں چستی پیدا ہوتی ہے اور انسان زیادہ پھرتی کے ساتھ بھاگ دوڑ کا کام کر سکتا ہے۔اس طرح تیراندازی اور غلیل کے ساتھ نشانہ بازی کی بھی مشق کرتے رہنا چاہیئے۔جو شخص غلیل کے نشانے کی مشق رکھتا ہے وہ بندوق آسانی کے ساتھ چلا سکتا ہے۔اسی طرح