خطبات محمود (جلد 28) — Page 96
خطبات محمود 96 سال 1947ء کہ وہ اپنے عیش میں ذرا بھی کمی آنا پسند نہیں کرتے۔اگر مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر عمل کریں تو پچاس ساٹھ سال کے اندر مسلمانوں کی گرتی ہوئی حالت درست ہوتی جائے اور ان کی تعداد کہیں سے کہیں جا پہنچے۔لیکن بُھوک کا خوف انہیں اس پر عمل کرنے نہیں دیتا۔پس ہماری جماعت کے دوستوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ ان کے وجود سے سلسلہ کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔سلسلہ تم سے سارا مال نہیں مانگتا۔لیکن تم سے یہ خواہش ضرور کرتا ہے کہ تم اپنے مالوں اور پیشوں میں ایسے طور پر ترقی کرو کہ اس سے سلسلہ کو فائدہ پہنچے۔مثلاً ایک تاجر اگر سلسلہ کو فائدہ پہنچانے کی خواہش رکھتا ہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے کہ کسی احمدی کو اپنے ساتھ ملا کر تجارت کا کام سکھا دے۔جب وہ کام سیکھ جائے گا تو وہ دوسری جگہ اپنا کام چلا سکے گا۔اس طرح کام کرنے سے جماعت کو بہت تقویت پہنچے گی۔ہماری جماعت تو مذہبی جماعت ہے اس میں قومی جذبہ زیادہ شدت کے ساتھ موجود ہونا چاہیئے۔ہم تو دنیا دار لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ بھی اپنی خدمات اپنی قوم کی طرف منتقل کر دیتے ہیں۔انگریزوں کے ہندوستان میں داخل ہونے کا ذریعہ ایک انگریز ڈاکٹر تھا جس نے شاہجہان کی لڑکی کا علاج کیا۔اور جب وہ اچھی ہوگئی تو شاہجہان نے خوش ہو کر اُس ڈاکٹر سے کہا کہ جو انعام چاہتے ہو مانگو۔اُس انگریز ڈاکٹر نے کہا میں اور کچھ نہیں مانگتا آپ صرف اتنی مہربانی کریں کہ ہمارے جہازوں کو ٹھہرنے کے لئے ہندوستان کے ساحل پر کوئی جگہ دے دیں۔اس طرح انگریز قوم کے لئے ہندوستان میں قدم رکھنے کا رستہ کھل گیا۔اگر وہ ڈاکٹر اُس وقت دس نہیں لاکھ روپیہ مانگتا اور بڑا امیر کبیر بن جاتا تو کیا اُس کی قوم کے دل میں اُس کی اتنی عزت قائم ہو سکتی تھی جتنی اب ہے؟ اور کیا اُس کی قوم ہندوستان میں داخل ہوسکتی تھی ؟ لیکن اُس نے اپنے ذاتی مفاد کو نظر انداز کرتے ہوئے قوم کے فائدہ کو مدنظر رکھا جس سے اُس کی تمام قوم ہندوستان کی زمین پر غالب آگئی اور اُس کی نسلوں کو بھی کئی قسم کے منافع پہنچ گئے۔پس ہماری جماعت کو انفرادیت کی روح کچل دینی چاہیئے اور ہر شخص کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ میں ایک بیج ہوں جو اپنی قوم کے مفاد کے لئے زمین میں دفن ہو کر اچھے نتائج پیدا کروں گا تا کہ تمہاری ہر قربانی پہلی قربانی سے زیادہ شاندار نظر آئے اور ہر آنے والے سال میں تم پہلے کی