خطبات محمود (جلد 28) — Page 89
سال 1947ء 89 خطبات محمود مضبوط ہو جاتی ہے؟ مسلمانوں میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو کہ جان دینے سے دریغ نہیں کرتے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اسلام کی شوکت و عظمت اور ترقی کو صحیح رنگ میں قائم نہیں کر سکے ۔ جو بیج فنا ہو کر زیادہ اچھے پھل پیدا نہیں کرتا ہم اُسے اچھا بیج نہیں کہہ سکتے ۔ اچھا بیج وہی ہے جو کہ اچھے پھل پیدا کرتا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی مقصود اور مدعا کے لئے قربانی کرنا ہی انسان کو فائدہ پہنچا سکتا ہے اور یہی جذبہ دوسرے لوگوں کے دلوں میں قربانیوں کی خواہش پیدا کرتا ہے۔ پس ہماری جماعت کے ہر فرد کو اچھے بیج کی حیثیت اختیار کرنی چاہیئے جو کہ جلد جلد بڑھتا ہے اور ایک دانے سے سات سو دانے پیدا کرتا ہے۔ جس کے متعلق ثابت ہو جائے کہ وہ بہت اچھا بیج ہے اُس کے حاصل کرنے کے لئے لوگ بڑی بڑی کوششیں کرتے ہیں ۔ مثلاً مصر میں روئی بہت اچھی پیدا ہوتی ہے اور مصر کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ ہمارا پیج سب سے اچھا ہے اس لئے ہم دوسرے ملکوں کو نہیں دے سکتے ۔ چنانچہ وہاں کی گورنمنٹ کا یہ قانون ہے کہ کوئی شخص مصر سے باہر روئی کا بیج نہیں لے جا سکتا۔ جب یہ قانون ہے تو ایسی صورت میں لوگ اُس پیج کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے یہ طریق اختیار کرتے ہیں کہ کسی دوست کو خط لکھا تو اُس میں ایک بیج ڈال دیا۔ وہ دوست اُس ایک پیج کو نہایت احتیاط کے ساتھ ہوتا ہے اور جب وہ اُگ کر پودے کی صورت اختیار کرتا ہے تو اُس ایک پودے سے پچاس ساٹھ بیج پیدا ہو جاتے ہیں ۔ پھر اگلے سال ان پچاس ساٹھ بیجوں سے تین چار سو بیج پیدا ہوتے ہیں ۔ پھر تیسرے سال تین چار سو سے پانچ سات ہزار بیج بن جاتے ہیں ۔ پھر چوتھے سال پچاس ساٹھ ہزار بیج بن جاتے ہیں ۔ پھر پانچویں سال پانچ دس لاکھ بیج بن جاتے ہیں ۔ غرض پانچ سات سال کی محنت شاقہ کے بعد کہیں بیج تیار ہوتا ہے اور لوگ نہایت احتیاط کے ساتھ ان پودوں کی نگرانی کرتے ہیں تا کہ وہ ضائع نہ ہو جائیں ۔ پس جس شخص کے پاس تھوڑا بیج ہوتا ہے وہ اُس کی زیادہ سے زیادہ حفاظت کرتا ہے اور اُس سے زیادہ بیج حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ہمیں بھی اپنی تعداد کی طرف دیکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اخلاص اور تقویٰ کے ساتھ دنیا میں زیادہ سے زیادہ احمدیت کے بیج کو پھیلانا چاہیئے ۔ اور کوشش کرنی چاہیئے کہ ہمارا کوئی بیج بھی کسی جگہ ضائع نہ ہو ۔ ہم ہر سال پہلے کی نسبت زیادہ احتیاط کریں اور ہر سال پہلے کی نسبت زیادہ