خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 90

خطبات محمود 90 00 سال 1947ء قربانی کریں تا کہ دنیا میں اس پیج کو نہایت عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔بعض لوگ جو دوسرے علاقوں سے کوئی بیج یا پودا نکال لاتے ہیں اور اُس کو اپنے ملک میں ترقی دیتے ہیں وہ دنیا میں عزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور بعض تو تاریخی آدمی بن جاتے ہیں۔اور احمدیت تو ایک مذہب ہے جس کا پودا لگانے والا کبھی بھلا یا نہیں جا سکتا۔فرانس کے ایک بہت بڑے آدمی نے لڑکی میں جا کر محض اس لئے ملازمت اختیار کی تھی کہ قسطنطنیہ میں جو شاہی باغ تھا اُس میں خاص قسم کا گلاب تھا۔وہ چاہتا تھا کہ اُس کی ایک قلم حاصل کر سکے۔چنانچہ اُس نے باغبان کے طور پر باغ میں کام کرنا منظور کیا اور وہاں سے گلاب کی ایک قلم نکال لایا اور اسے اپنے ملک میں ترقی دی اور آج تک وہ گلاب اُس کے نام سے مشہور ہے۔اُس شخص نے اپنی عمر کا ایک حصہ بطور باغبان محض اس لئے خرچ کیا کہ وہ ایک چیز اپنے ملک میں لے آئے۔اسی طرح کسی ملک سے کوئی شخص آلو لے آیا۔کوئی تمبا کو لے آیا۔کوئی کافی لے آیا۔اُن کو اپنے اپنے ملک میں ترقی دی اور گورنمنٹ کے قانونوں سے بچتے ہوئے اپنے ملک کے لئے دولت کا سامان پیدا کیا۔جب دنیوی بیجوں کے لئے لوگ اتنی محنت اور قربانی کرتے ہیں تو وہ بیج جس سے ایمان کی کھیتی وابستہ ہے اور جس کا پھیلانا ہمارے لئے ضروری ہے اور جس کے بغیر اسلام کے دوبارہ زندہ ہونے کا کوئی رستہ گھلا نظر نہیں آتا اُس پیج کے لئے احمدیوں کو کس قدر قربانی اور محنت کرنی چاہیئے۔یہ اس پیج کی اہمیت سے خود ظاہر ہے۔پس اس پیج کے پھیلانے کے لئے سچی قربانی اور سچے عزم کی ضرورت ہے۔ہماری حیثیت تو بیج کی مقدار کے برابر بھی نہیں اس لئے ہمیں تو اور بھی زیادہ قربانی کی ضرورت ہے۔اگر ہم نے احمدیت کے بیج کو تمام دنیا میں پھیلانے کی کوشش نہ کی تو ہم تین اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔ہمارے لئے یہ بات کافی نہیں ہو گی کہ ہم نے اپنی ای زندگی اچھی گزاری ہے۔بلکہ ہمارے ذمہ یہ بھی فرض ہے کہ ہم اسلام کی کھیتی کو دوبارہ تر و تازہ کریں اور اس کے لئے بمنزلہ پیج بنیں۔بعض دفعہ انسان اپنے لئے زندگی بسر کرتا ہے اور بعض دفعہ اُسے دوسروں کے لئے زندگی بسر کرنی پڑتی ہے۔انبیاء کی جماعتوں کے لئے یہ بات کافی نہیں ہوتی کہ وہ خود نیکی اور تقویٰ پر قائم رہیں بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی نیکی اور تقویٰ پر قائم کرنا اُن کا فرض ہوتا ہے۔اور اگر وہ اس