خطبات محمود (جلد 28) — Page 74
خطبات محمود 74 سال 1947ء سے کام لیا اور کتاب خریدنے میں دیر کی تو پھر اُسے یہ کتاب کسی قیمت پر بھی نہ مل سکے گی۔میں پہلی تفسیر کبیر کے متعلق دیکھتا ہوں کہ ہم نے ہزار صفحے کی کتاب پانچ پانچ روپے میں فروخت کی۔لیکن بعض دوستوں نے اُس وقت سُستی اور کوتاہی کی۔لیکن اب بیسیوں آدمیوں کے خطوط آرہے ہیں کہ تفسیر کسی قیمت پر ملے ہمیں ضرور لے دیں۔اور تو اور ہمارے بعض اداروں نے بھی اُس وقت سستی کی اور بعد میں اب پچھتاتے ہیں۔میں نے مختلف اداروں سے پتہ کرایا تو معلوم ہوا کہ کالج ، جامعہ احمدیہ، مدرسہ احمدیہ والوں نے پہلی جلد نہیں خریدی اور دوسری جلد میں خرید لی ہیں۔پہلی جلد کے متعلق وہ کہتے ہیں ہم نے بہت کوشش کی ہے ملتی ہی نہیں ہے۔اور اب تو جنگ ختم ہو چکی ہے اور سماٹرا اور جاوا والے بھی مطالبہ کریں گے کہ ہمارا حصہ ہمیں دیا جائے ، ہمیں کیوں اس سے محروم کیا گیا ہے۔وہ ایک ہزار صفحے کی کتاب تھی لیکن بوجہ جنگ کے ہم اُسے دوبارہ نہیں چھپوا سکے حالانکہ اس کے چھپوانے میں وہ وقتیں نہیں ہیں جو کہ انگریزی کتاب کے چھپوانے میں ہیں۔کیونکہ انگریزی پریس والوں کے پاس عربی ٹائپ نہیں ہوتی اس وجہ سے انگریزی کتاب کے چھپوانے میں اُس سے زیادہ دقتیں ہوتی ہیں۔گو جنگ کے اثرات کے زائل ہونے کے بعد امید ہے کہ یورپ سے یہ کتاب چھپوائی جائے تو بہت سستی چھپ جائے گی۔لیکن لالی اس کے لئے بھی تو چار پانچ سال کا انتظار کرنا ہو گا یا شاید زیادہ۔پس افراد کو اور اداروں کو جلد سے جلد آرڈر دے دینے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ اس تفسیر کی اشاعت میں خاص برکت بخشے 66 دوسری جلد یا جلدوں کی اشاعت کے لئے بھی جلد راستہ کھول دے۔اللَّهُمَّ آمِينَ (الفضل 26 فروری 1947 ء ) 1 پنڈت مدن موہن مالویہ: (1861ء-1946ء) ہندوستان کے ممتاز سیاسی رہنما جو دو بار انڈین نیشنل کانگرس کے صدر رہے۔بنارس یو نیورسٹی کا قیام انہیں کی کوششوں کا نتیجہ ہے اور وہ کئی برس تک اس کے وائس چانسلر رہے۔ملک کی آزادی کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس کے لئے ہر قسم کی قربانی دی۔(اُردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد 2 صفحہ 1387 مطبوعہ لاہور 1988ء)