خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 61

سال 1947ء 61 خطبات محمود یقیناً کٹ مریں گے ۔ اسی طرح اگر ہماری جماعت میں بھی اسلامی شعار کو قائم رکھنے کا احساس ہو جائے اور وہ سختی سے اس پر پابند ہو جائے تو یقیناً اس کا بھی لوگوں کے دلوں میں رعب قائم ہو جائے گا ۔ اور لوگ یہ سمجھنے لگ جائیں گے کہ یہ لوگ اپنی بات کے پکے ہیں اور کسی کی رائے کی پروا نہیں کرتے ۔ جب یہ لوگ داڑھی کے معاملہ میں اس قدر سختی سے پابند ہیں تو باقی اسلامی احکام کے وہ کیوں پابند نہ ہوں گے ۔ اگر ہم نے ان کی کسی دینی بات میں دخل اندازی کی تو یہ لوگ مر جائیں گے لیکن اپنی بات کو پورا کر کے چھوڑیں گے۔ اس کے مقابل میں اگر لوگ یہ دیکھیں کہ تم لوگوں کی باتوں سے ڈر کر اور لوگوں کی ہنسی سے ڈر کر داڑھی منڈا لیتے ہو یا چھوٹی کر لیتے ہو تو وہ خیال کریں گے کہ جو لوگ دنیا کی باتوں سے ڈر جاتے ہیں وہ گورنمنٹ کے قانون اور پولیس کے ڈنڈے سے کیوں مرعوب نہ ہوں گے۔ پس تمہارا داڑھیوں کے معاملہ میں کمزوری دکھانا جماعت کے رُعب اور اثر کو بڑھانے کا موجب نہیں بلکہ رُعب اور اثر کو گھٹانے کا موجب ہے۔ پھر نمازوں کی پابندی اس سے زیادہ اہم ہے ۔ داڑھی تو ایک ظاہری چیز ہے اور نماز روحانیت کا سرچشمہ ہے اور بندے کے لئے اللہ تعالیٰ کا مقرب بننے کا ذریعہ ہے۔ تم یہ جانتے ہو کہ اگر کوئی شخص سنکھیا کھالے تو وہ یقیناً مر جاتا ہے ۔ اسی طرح تمہیں یہ بھی یا درکھنا چاہیئے کہ نماز نہ پڑھنا بھی سنکھیا کھانے سے کم نہیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ سنکھیا ایسا ہے جو قیامت کے دن اپنا اثر دکھائے گا اور انسان کو ابد الآباد تک کی دوزخ میں ڈال دے گا۔ پس یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ یہ سنکھیا مارتا نہیں بلکہ یہ سنکھیا ایسا ہے جو کہ بہت سی اکٹھی موتیں انسان پر وارد کرے گا۔ انسان کو موت آئے گی لیکن وہ مر نہیں سکے گا۔ سنکھیا کھا لینا اتنا مضر نہیں جتنا نماز نہ پڑھنا مُضر ہے ۔ کیونکہ سنکھیا کھانے سے تو انسان پر ایک موت وارد ہوتی ہے لیکن نماز نہ پڑھنے کے نتیجہ میں انسان جو سنکھیا کھاتا ہے وہ ایسا ہے کہ اکٹھی کئی موتیں انسان پر لے آتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيى -3 کہ دوزخ میں انسان نہ مر سکے گا اور نہ ہی زندہ رہے گا۔ ہر وقت اُس کو موت آتی رہے گی لیکن اس کے باوجود وہ مرنہیں سکے گا ۔ موت کی تکلیف اٹھانے کے بعد وہ بے حس نہیں ہوگا کہ اُسے باقی موتوں سے نجات حاصل ہو جائے ۔ جتنے عیب اور جتنی سستیاں اور جتنی بدیاں ہوں گی وہ سب موت کی شکل میں اُس کے سامنے نمودار ہوں گی