خطبات محمود (جلد 28) — Page 60
خطبات محمود 60 60 سال 1947ء اور پھر کتنے شرم کی بات ہے کہ ایک انگریز جو یہاں مسلمان ہوا اُس نے تو مسلمان ہونے کے بعد داڑھی رکھ لی حالانکہ انگریزوں میں سب ہی داڑھی منڈاتے ہیں۔اُس نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی قربانی کا ثبوت دیا کہ میں اسلام کے احکام پر عمل کر کے دکھا سکتا ہوں۔اُس کو اُس کے ملک کے لوگوں نے حیرت کی نظر سے دیکھا اور ولایت کے اخباروں میں اُس کے متعلق نوٹی بھی شائع ہوئے۔بعض لوگوں نے اُس سے پوچھا کہ تم داڑھی رکھتے ہو لیکن لباس انگریزی پہنتے ہو۔اسکی کیا وجہ ہے؟ تو اُس نے جواب دیا کہ کپڑوں کے متعلق اسلام نے مجھے کوئی خاص حکم نہیں دیا اور نہ اسلام مجھے ان کپڑوں کے پہننے سے منع کرتا ہے۔لیکن اسلام مجھے داڑھی رکھنے کا حکم دیتا ہے اس لئے میں نے داڑھی رکھی ہوئی ہے۔جس طرح ایک انگریز کے داڑھی رکھنے پر انگلستان کے لوگوں نے تعجب کا اظہار کیا اسی طرح ہندوستان کے لوگ تمہارے داڑھی نہ رکھنے پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔لوگوں کو تمہارے اندرونے کی صفائی کے متعلق کیا علم ہو سکتا ہے۔اُن کی نظر تو ظاہر پر ہی پڑتی ہے۔اگر تم ظاہر کو درست نہیں کرتے تو لوگ تمہارے دلوں کی صفائی کے کبھی قائل نہیں ہو سکتے۔اور پھر جب غیروں کے ہاتھ ایک چھوٹی سی بات بھی آجائے تو وہ اُسے خُوب بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں کہ احمدی ایسے ہوتے ہیں۔پس میں خدام الاحمدیہ اور انصار الله دونوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے حلقہ میں داڑھی کے متعلق خوب پراپیگنڈا کریں۔خدام نوجوانوں کو سمجھا ئیں اور انصار اللہ بڑوں کو سمجھا ئیں۔اور یہ کوشش کی جائے کہ جو شخص داڑھی منڈاتا ہے وہ خشخشی داڑھی رکھے۔اور جو خشخشی رکھتا ہے وہ ایک انچ یا آدھا انچ بڑھائے۔اور پھر ترقی کرتے کرتے سب کی داڑھی حقیقی داڑھی ہو جائے۔اسلام کے تمام احکام میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے۔اور ہر حکم میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے۔کوئی ایک حکم بھی بغیر مصلحت کے نہیں۔داڑھی رکھنے میں بھی کئی حکمتیں اور کئی مصالح ہیں۔یہ جسمانی صحت کے لئے بھی مفید ہے اور جماعتی تنظیم کے لئے بھی بہت فائدہ مند ہے۔سکھوں کے کیس اور داڑھی پر سختی سے پابند ہونے کی وجہ سے کوئی شخص ان کے مذہب پر حملہ نہیں کرتا۔کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ جو لوگ داڑھی اور کیس پر اس قدر سختی سے پابند ہیں اور اس معاملہ میں دخل اندازی کو پسند نہیں کرتے اگر اُن کی کسی مذہبی بات میں دخل اندازی کی تو وہ تو