خطبات محمود (جلد 28) — Page 57
خطبات محمود 57 سال 1947ء شاندار ہے۔میرے اس نسخہ کو استعمال کر کے دیکھو۔سولہ سال میں تمام دنیا احمدی ہو جائے گی۔اور سولہ سال کے بعد اگر تم سب سے طاقتور لیمپ لے کر بھی کسی غیر مذہب والے کو تلاش کرو تو تمہیں کوئی غیر مذہب والا نہیں ملے گا۔اس نسخے کو استعمال کرنے کے لئے صرف ہمت اور استعمال کی ضرورت ہے۔اگر ہر ایک احمدی کم از کم ایک احمدی ہر سال بنائے تو چند سالوں کے اندر اندر تمہیں ہندوستان میں کوئی غیر مذہب والا نہ ملے گا۔اور سولہ سال کے بعد تمہیں تمام دنیا میں کوئی غیر احمدی نہ ملے گا۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ تم کو تبلیغ کی ڈھن لگ جائے اور اس کے بغیر تم پر روٹی کھانا حرام ہو جائے۔اور تبلیغ کے بغیر تمہیں چین اور آرام نہ آئے۔جب تمہارے قلوب کی یہ حالت ہو جائے گی تو تم دیکھو گے کہ جماعت فوری طور پر ترقی کرنا شروع کر دے گی۔میں جماعت کے اس کام سے بھی خوش ہوں۔لیکن حقیقی خوشی تبھی حاصل ہو سکتی ہے جبکہ ہر احمدی ہر سال کم از کم ایک احمدی بنائے اور یہ سلسلہ متواتر چلتا جائے۔اور جیسا کہ میں نے کہا ہے یہ کام کوئی مشکل نہیں۔صرف ذمہ داری کو سمجھنے اور اپنے فرض کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ہم نے پہلے ہی بہت سستی اور غفلت کی ہے۔اب اس کی تلافی کی کوشش کرنی چاہیئے اور آئندہ جلدی جلدی قدم اٹھانا چاہیئے۔ہماری جماعت کے اعلان پر 57 سال گزر گئے ہیں۔اگر ابتداء می سے ہی ہم لوگ اس اخلاص کا نمونہ پیش کرتے کہ ہر احمدی کم از کم سال میں ایک احمدی ضرور بنا تا تو آج تک کبھی کی دنیا فتح ہو چکی ہوتی۔لیکن افسوس کی بات یہی ہے کہ اپنی ذمہ داری کو كَمَا حَقَّة سمجھا نہیں گیا۔میں اس وقت تمام چہروں سے یہ محسوس کرتا ہوں کہ لوگ حساب پر حیران ہوئے ہیں کہ کام کتنا معمولی ہے۔یعنی سال میں صرف ایک احمدی بنانا اور نتیجہ کتنا شاندار ہے کہ سولہ سال میں تمام دنیا احمدی بن سکتی ہے۔گویا ان کے سامنے یہ ایک نئی چیز پیش کی گئی ہے۔جس طرح بادشاہ اُس موجد کی بات کو نہیں سمجھا تھا اسی طرح آپ لوگ بھی اب تک میری بات کو نہیں سمجھے۔اگر اب بھی آپ لوگ میری سکیم کے ماتحت پوری کوشش کے ساتھ تبلیغ کرنے لگ جائیں تو اس کے اتنے شاندار نتائج نکلیں گے کہ وہ آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتے۔اس کے بعد میں جماعت کے نوجوانوں کو عموماً اور قادیان کے نوجوانوں کو خصوصاً اس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ گزشتہ سالوں میں کئی دفعہ میں نے بیان کیا ہے کہ ہماری جماعت تھی