خطبات محمود (جلد 28) — Page 58
خطبات محمود 58 سال 1947ء کے افراد کو اسلام کے شعار پر عمل کرنا چاہیئے۔مگر مجھے افسوس ہے کہ اس طرف ابھی تک توجہ نہیں ہوئی۔میں نے خدام الاحمدیہ کو بھی توجہ دلائی تھی لیکن انہوں نے بھی توجہ نہیں کی۔میں نے کہا تھا کہ ہر ایک خادم کی نگرانی کی جائے کہ وہ نماز باجماعت ادا کرتا ہے یا نہیں۔لیکن بجائے میری اس ہدایت پر عمل کرنے کے اب ہوتا یہ ہے کہ کئی ایسے لوگوں کو خدام الاحمدیہ کا افسر مقرر کیا جاتا ہے ہے جو کہ خود ہفتہ ہفتہ تک مسجد میں نہیں گھستے۔حالانکہ ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ پانچوں وقت کی نماز باجماعت ادا کرے سوائے اس کے کہ وہ بیمار ہو۔بیماری کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے کی اجازت دی ہے کہ وہ گھر پر نماز پڑھ سکتا ہے۔اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ نو جوانوں کے چہروں سے داڑھیاں غائب ہوتی جا رہی ہیں ، وہ دن بدن اُن کو چھوٹا کرتے جا رہے ہیں۔حالانکہ ہم نے خشخشی 2 کی اجازت تو اُن لوگوں کو دی تھی جو کہ اُسترا پھیرتے تھے۔اُنہیں کہا گیا تھا تے کہ تم اُسترا نہ پھیر اور چھوٹی چھوٹی خشخشی داڑھی ہی رکھ لو۔لیکن یہ جواز جو کہ اُسترا والوں کے لئے تھا اس پر دوسرے لوگوں نے بھی عمل کرنا شروع کر دیا۔اور جن کی بڑی داڑھیاں تھیں اُن میں سے بھی بعض نے اس جواز سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خشخشی کر لیں۔حالانکہ جواز تو کمزوروں کے لئے ہوتا ہے۔ہمارا مطلب تو یہ تھا کہ جب اُسترا پھیرنے والے خشخشی داڑھیاں رکھ لیں گے تو پھر ہم اُن کو کہیں گے کہ اب اور زیادہ بڑھاؤ۔اور آہستہ آہستہ وہ بڑی داڑھی رکھنے کے عادی ہو جائیں گے۔لیکن اس جواز کا اُلٹا مطلب لیتے ہوئے بعض لوگوں نے بجائے داڑھیاں بڑھانے کے خشخشی کر لیں۔اگر ایک مریض کو ڈاکٹر شور با پینے کے لئے کہے تو کیا تم نے کبھی دیکھا ہے کہ پولیس ڈنڈے لے کر تمام لوگوں کو شور با پینے پر مجبور کرے کہ ڈاکٹر کا حکم ہے کہ شور با پینا چاہئے ؟ ڈاکٹر کا حکم تو مریض کے متعلق ہے نہ کہ دوسروں کے لئے۔چونکہ جو لوگ داڑھی منڈوانے کے عادی ہوتے ہیں وہ یکدم داڑھی نہیں رکھ سکتے اس لئے ہم نے اُن کو اجازت دے دی کہ اچھا تم خشخشی رکھ لو۔اس سے ہمارا یہ مطلب ہر گز نہیں تھا کہ جن کی داڑھیاں بڑی ہیں وہ بھی خشخشی کر لیں۔اصل بات یہ ہے کہ گو داڑھی کو مذہب میں کوئی بڑا دخل نہیں لیکن اغیار تمہاری داڑھیوں کو ، تمہارے سر کے بالوں کو اور تمہارے کپڑوں کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ تم اپنے مذہب کے لئے کتنی غیرت اپنے دل میں رکھتے ہو اور تم اسلامی