خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 50

خطبات محمود 50 سال 1947ء سودا ہونے والا ہے۔ وہ کیوں یہ خیال کرتے ہیں کہ میں نے جو کچھ نفع کمانا ہے پانچ دس کنال میں سے ہی کما لیں۔ پھر جب قادیان دریائے بیاس تک پھیل کر ایک بہت بڑا شہر بن گیا تو خرید و فروخت کا سلسلہ پھر بھی جاری رہے گا۔ کیونکہ شہروں میں لوگ ہمیشہ مکان بناتے اور فروخت کرتے رہتے ہیں۔ دنیا کا کوئی شہر ایسا نہیں جس میں یہ تجارت بند ہو گئی ہو۔ یہ تجارت ہمیشہ جاری رہتی ہے ۔ یہاں تک کہ لندن اور نیو یارک جیسے شہروں میں بھی ایک شخص دوسرے سے مکان خریدتا اور پھر تیسرے کے پاس فروخت کر دیتا ہے ۔ اور اس طرح عظیم الشان شہر بن جانے کے باوجود پھر بھی اربوں ارب روپیہ کی تجارت ہوتی رہتی ہے ۔ یہ صرف تنگ خیالی اور کوتاہ نظری ہوتی ہے کہ انسان اپنے قریب کی چیز کو دیکھتا ہے اور دور کا نفع اُسے نظر نہیں آتا۔ ہمارے ملک میں مشہور ہے کہ ملا کے ہاتھ میں بیٹا آجائے تو پھر وہ اُسے چھوڑتا رتا نہیں اور خیال کرتا ہے کہ پھر نہ معلوم کوئی بٹیر ہاتھ میں آئے یا نہ آئے ۔ یہی حال بعض کوتاہ خیال تاجروں کا ہے جو چند کنال زمین کی فروخت سے ہی سارا نفع حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ حالانکہ تجارت ایک ایسی چیز ہے جسے ہمیشہ جاری رکھا جا سکتا ہے۔ یہاں زمین بیچو آگے چل کر سستی خرید لو۔ پھر وہ بیچو اور آگے خرید لو۔ مگر کوئی ایسا ذریعہ اختیار نہ کرو جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے پورا ہونے میں روک واقع ہو جائے ۔ بیشک تمہیں عارضی نفع حاصل ہو جائے گا مگر یا درکھو خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے پورا ہونے میں روک بننے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا عذاب تم پر نازل ہوگا۔ لیکن اگر تم اس پیشگوئی کے پورا کرنے میں محمد بنو گے تو تمہاری تجارتوں کی کوئی حد بندی نہیں ہوگی اور تمہارا نفع ہمیشہ ترقی کرتا چلا جائے گا۔“ الفضل 11 فروری 1947 ء ) 1 : تذکرۃ صفحہ 782 ایڈیشن چہارم 2: فرموده 2 جنوری 1938ء مطبوعہ الفضل 4 جنوری 1938ء صفحہ 2۔ 3 مسلم کتاب المساقاة باب قدر الطريق إذا اختلفوا فيه میں اذا اختلفتم في الطريق جعل عرضه سبع اذرع“ کے الفاظ ہیں۔ 4: ڈاکٹر ز ویمر: امریکہ کے ایک مشہور مستشرق جو 28 مئی 1924ء کو قادیان آئے ۔ ) تاریخ احمدیت جلد 5 صفحہ (439) 5: اشْتَرَوْا بِايْتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا (التوبة:9)