خطبات محمود (جلد 28) — Page 45
سال 1947ء 45 خطبات محمود کی آیتوں کو بیچ کر کھاتے ہیں 5 ۔ ایسے تاجر بھی خدا تعالیٰ کی آیات کو بیچ کر کھانے والے ہیں ۔ گا۔ لوگ آتے ہیں خدا کی بات پوری کرنے کے لئے ۔ اُن کا اخلاص اور اُن کا ایمان تقاضا کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا حکم پورا ہو۔ مگر تاجر اُن کے اخلاص سے اس رنگ میں ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں کہ وہ اُن سے زیادہ سے زیادہ روپیہ وصول کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ طریق جو نہایت ہی خطر ناک ہے بہر حال جلد سے جلد ختم ہونا چاہئیے ۔ مگر اس کے متعلق ابھی پوری سکیم میرے ذہن میں نہیں ۔ بعد میں اس بارہ میں مفضّل اعلان کر دیا جائے گا ۔ سرِ دست میں صرف اس قدر اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ زمینوں کے جتنے سودے میرے 1938 ء کے اعلان کے بعد ہوئے ہیں اور جن میں میری مقرر کردہ شرائط کو جو میں نے گلیوں اور سڑکوں کے متعلق بیان کی تھیں ملحوظ نہیں کھا گیا وہ تمام کے تمام سودے شرطیہ طور پر منسوخ کر دیئے جائیں ۔ اگر گاہک گلیوں اور سڑکوں کے لئے زمین دے دیں اور سمجھیں کہ سڑکوں اور گلیوں کے لئے زمین دینے کے بعد بھی جو حصہ اُن کے پاس رہتا ہے وہ اُن کی ادا کردہ قیمت کے مقابلہ میں مہنگا نہیں تو اُن کا سودا قائم رہے گا ۔ اور اگر وہ سمجھیں گے کہ اس قدر زمین چھوڑنے کے بعد جو زمین ہمارے پاس رہتی ہے وہ کم ہے اور روپیہ ہم سے زیادہ لے لیا گیا ہے تو مالک کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اُنہیں قیمت واپس دے دے اور پھر خود رستے وغیرہ چھوڑ کر کسی دوسرے کے پاس زمین فروخت کر دے۔ ہمیں اس طریق میں دونوں کا فائدہ مد نظر رہے گا ۔ اگر گا ہک یہ سمجھے گا کہ جو زمین میر - لہ جو زمین میرے پاس باقی رہے گی وہ بھی میری ادا کردہ قیمت کے مقابلہ میں سستی ہے اور رستے خود بخود چھوڑ دے گا تو زمین اُس کے پاس رہے گی ورنہ اُسے قیمت واپس دلا دی جائے گی۔ اور مالک کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ رستے چھوڑ دینے کے بعد بھی اُس زمین کو مناسب قیمت پر کسی دوسرے کے پاس فروخت کر دے۔ مگر اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ قادیان کی آئندہ وسعت کے متعلق ایک نقشہ جلد سے جلد تیار کیا جائے ۔ فی الحال محلہ کی آخری عمارت سے آدھ آدھ میل تک چاروں گوشوں کی زمین لے لی جائے یا اگر مناسب سمجھا جائے تو میونسپل حدود کو لے لیا جائے ۔ مگر وہ چھوٹی ہیں۔ ایسی نہیں جس سے قادیان کی آئندہ ترقی کا اندازہ لگایا جا سکے ۔ اگر اُن حدود کو لیا گیا تو قادیان کی آبادی کو ہم صحیح طور پر منظم نہیں کر سکتے ۔ میرے نزدیک مناسب یہی ہے کہ ہر محلہ کی آخری