خطبات محمود (جلد 28) — Page 43
سال 1947ء 43 خطبات محمود دوسرے ۔ دراصل سڑکیں اور گلیاں وغیرہ چھوڑ نا شہر کی صفائی اور درستی اور خوشنمائی کے لئے نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اگر ہر زمین فروخت کرنے والے سے دس فیصدی رقم لی جائے تو آہستہ آہستہ ایک ایسا مضبوط فنڈ قائم ہو سکتا ہے جس سے شہر کی درستی کے بہت کچھ کام لئے جا سکتے ہیں ۔ غرض زمینوں کی خرید و فروخت کے لئے ایک کمیٹی کا بننا نہایت ضروری ہے۔ اب تو رقابت کے طور پر ہی ایک کے مقابلہ میں قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں اور غرباء کے لئے سخت مشکل پیش آرہی ہے۔ کمیٹی بن گئی تو جو شخص زمین خریدنا چاہے گا اُس کی معرفت خریدے گا اور جو شخص زمین بیچنا چاہے گا اُس کی معرفت بیچے گا۔ انفرادی خرید و فروخت کا سلسلہ قطعی طور پر بند کر دیا جائے گا۔ اس طرح قیمتوں کے سلسلے میں ایک معقول حد مقرر کر دی جائے گی اور کہہ دیا جائے گا کہ اس سے زیادہ قیمت وصول نہیں کرنی۔ اس ضمن میں ایک اور تجویز بھی میرے ذہن میں ہے مگر اُس پر ابھی میں نے پورے طور پر غور نہیں کیا۔ اور وہ تجویز ہے کہ جو شخص کوئی زمین خریدے اُس پر شرط عائد کر دی جائے کہ وہ بارہ مہینے کے اندر اندر اگر اُس زمین کو فروخت کرے تو دس فیصدی سے زیادہ نفع نہیں لے سکتا ۔ دو سال کے بعد فروخت کرے تو میں فیصدی سے زیادہ نفع نہیں لے سکتا ۔ اس طرح نفع کو ایک حد میں لایا جا سکتا ہے ۔ مگر ابھی میں اس کا اعلان نہیں کرتا ۔ صرف اس قدر کہنا چاہتا ہوں کہ میرے ذہن میں ایسی تجاویز ہیں جن سے آئندہ نا جائز نفع اندوزی کے سلسلہ کوگالی طور پر روک دیا جائے گا ۔ اب تو یہ ہوتا ہے کہ آج ایک شخص پانچ سو روپیہ پر ایک کنال زمین خریدتا ہے تو چوتھے مہینے دو ہزار روپے پر بیچنے لگ جاتا ہے ۔ اور بعض نے تو یہ تجارت کا سلسلہ اس رنگ میں شروع کر رکھا ہے کہ ایک شخص جس نے چار سو روپیہ میں ایک کنال زمین خریدی تھی وہ دوسرے کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے کہ قادیان میں زمینوں کی قیمتیں خوب بڑھ رہی ہیں اس لئے زمین ضرور خرید لو ۔ جب وہ زمین خرید نے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو کہتا ہے چار سو روپیہ میں میں نے زمین خریدی تھی تم پانچ سوروپیہ پر لے لو۔ وہ پانچ سورو پہیہ میں زمین خرید لیتا ہے اور اسے سور و پی نفع ہو جاتا ہے۔ وہ چند دنوں کے بعد پھر اُس کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے آپ نے پانچ سو روپیہ میں زمین خریدی تھی اب میرے فلاں رشتہ دار کو اس کی ضرورت ہے۔ تم مجھ سے چھ سو لے لو اور زمین دے دو۔ جب اُسے سو روپیہ نفع نظر آتا ہے تو وہ چھ سو روپیہ میں اُسے دے دیتا ہے۔ اِس پر پھر ا