خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 39

سال 1947ء 39 خطبات محمود قادیان کو دیکھنے کے لئے بھی آ گئے ۔ ڈاکٹر ز ویمر پادریوں میں سے اسلامی ممالک میں عیسائیت کی تبلیغ کرنے والوں کے سردار اور لیڈر سمجھے جاتے ہیں ۔ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم اُن کو قادیان دکھاتے پھرے ۔ میری طبیعت اُن دنوں خراب تھی ۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے کہلا الیا۔ ڈاکٹر بھیجا کہ ڈاکٹر ز ویمر آپ سے ملنا چاہتے ہیں ۔ چنانچہ بعد میں اُنہوں نے نے مجھ سے مل بھی لیا ۔ ڈا خلیفہ رشید الدین صاحب نے سنایا کہ جب میں اُنہیں قادیان دکھا رہا تھا تو یہاں کا کیچڑ اور گند دیکھ کر وہ مسکرائے اور پھر ہنس کر کہنے لگے ۔ آج ہم نے یہ بھی دیکھ لیا کہ نئے مسیح کا شہر کیسا صاف ہے۔ آخر وہ اسلام کا دشمن تھا اور اس نے اعتراض ہی کرنا تھا ۔ چنانچہ اُس نے اعتراض کر دیا۔ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم کی طبیعت تیز بھی تھی اور حاضر جواب بھی ۔ وہ اُن کی بات سن کر کہنے لگے ۔ ابھی تک پہلے مسیح کی حکومت ہے اس لئے یہ پہلے مسیح کی حکومت کا نمونہ ہے ۔ جب ہمارے پاس حکومت آئی تب ہم بتا دیں گے کہ صفائی کس طرح رکھی جاتی ہے۔ انہوں نے جواب تو دے دیا مگر اس چوٹ میں ہمارے لئے ایک سبق تھا۔ یہ امر یاد رکھو کہ زندہ قوم وہ ہوتی ہے جس میں فردی فائدہ کے احساس سے قومی فائدہ کا احساس زیادہ ہوتا ہے ۔ جب افراد میں انفرادیت کی روح ترقی کر جائے تو جماعتی لحاظ سے وہ نہیں بڑھتی ۔ یہودیوں کی طرح اس میں بڑے بڑے تاجر ہونگے مگر وہ بڑے کام نہیں کر سکیں گے۔ لیکن جب انفرادیت کی بجائے اجتماعیت کی روح افراد میں پیدا ہو جائے اور وہ یہ سمجھنے لگیں کہ جماعت کی نیک نامی یا ملک کا فائدہ یا قوم کی ترقی مقدم ہے اور ہمارا فائدہ پیچھے ہے تب وہ قومی طور پر ترقی کرتے ہیں ۔ ہماری جماعت کے افراد کو بھی اپنے اندر انفرادیت کی بجائے اجتماعیت کی روح پیدا کرنی چاہئیے اور انہیں سمجھنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کتنی برکت دی ہے کہ ان کے لئے مال کمانے کے جائز ذرائع اُس نے پیدا کر دیئے ہیں ۔ مگر بجائے اس کے کہ وہ اس فضل کا احساس کریں اگر وہ لوٹ مار شروع کر دیں تو یہ کتنی خطرناک بات ہوگی ۔ بہر حال چونکہ قادیان میں اراضیات کی خرید و فروخت کا کام کرنے والوں کی وجہ سے دقتیں دن بدن بڑھتی چلی جاتی ہیں اس لئے میں ایک بار پھر اعلان کرتا ہوں اور امور عامہ کو اس بات کا ذمہ وار قرار دیتا ہوں کہ وہ اس اعلان کی تعمیل کرائے اور جو شخص تعمیل نہ کرے اُس کا جماعتی طور پر