خطبات محمود (جلد 28) — Page 446
خطبات محمود 446 (46) سال 1947ء ہمارے لئے اب عمل کا زمانہ ہے اور عمل ہمیشہ جذبات سے ہوا کرتا ہے نہ کہ عقل سے فرموده 19 دسمبر 1947ء بمقام لاہور ) تشہد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ہر شخص اور ہر قوم کا کوئی مطمح نظر ہوتا ہے۔اگر وہ طمح نظر صرف عقلی نہیں ہوتا بلکہ جذباتی ہوتا ہے تو اُس کی ساری قو تیں اُس صحیح نظر کے لئے وقف ہو جاتی ہیں۔اور اگر عقلی ہوتا ہے تو جتنا جتنا اُس کے یقین اور اُس کے ارادہ پر اُس عقلی صحیح نظر کا اثر پڑتا ہے اتنی اتنی توجہ اس کی طرف پھرتی چلی جاتی ہے۔دُنیا میں ساری چیزیں جو انسان کے دماغ میں آتی ہیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔یا فکری ہوتی ہیں یا جذباتی ہوتی ہیں۔یعنی یا تو فکر اور عقل کے ذریعہ سے اُس نے کسی بات کو تسلیم کیا ہوتا ہے اور جتنا جتنا فکر اور عقل کا اثر یا اُس کی تائید اُسے حاصل ہوتی ہے اتنا اُتنا ہی اُسے اُس چیز کے متعلق شغف ہوتا ہے۔مثلاً ایک انسان یہ سمجھتا ہے کہ مجھے اپنی زندگی کے اچھی طرح گزارنے کے لئے تعلیم کی ضرورت ہے۔اس خیال کے ماتحت وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے۔اور وہ اپنے وقت کو اُس قسم کی تعلیم کے حصول کے لئے جس کو وہ اپنی زندگی کے لئے مفید سمجھتا ہے خرچ کرتا ہے۔مگر یہ خیال کہ تعلیم میری زندگی کو بہتر بنا دے گی مختلف در جے رکھتا ہے۔مثلاً کوئی شخص یہ تو سمجھتا ہے کہ تعلیم اُس کی زندگی کو بہتر بنادے گی۔مگر اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ یہ ایسی ضروری چیز نہیں جیسے کوئی شخص مثلاً تقدیر کا غلط رنگ میں عقیدہ رکھتا ہو اور سمجھتا ہو کہ