خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 430

خطبات محمود 430 سال 1947ء کی جائیداد ہے۔مگر ہمیں سمجھدار کا رکن نہیں مل رہے اور اس وجہ سے آمد بہت کم ہوتی ہے۔اتنی کم کہ جور قوم پہلے ادا کرنی ضروری ہیں وہی بمشکل ادا ہوتی ہیں۔اگر صحیح طور پر کام کرنے والے مل جاتے تو اس زمانہ کی قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تین لاکھ روپیہ سالانہ کی آمد ہو سکتی تھی بلکہ عام حالات میں بھی ایک لاکھ کی آمد بالکل یقینی ہے۔مگر ابھی تک اس زمین کی وجہ سے ہمیں کوئی آمدن نہیں ہو رہی بلکہ اتنی بھی نہیں ہو رہی کہ ہم اُسے آمدن کہ سکیں۔صرف اتنا روپیہ آتا ہے جس سے ہم پرانے قرضے اور کچھ نئی قسطیں ادا کر سکتے ہیں۔اتنی رقم نہیں آتی کہ ہم اسے خزانہ میں جمع کر سکیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اچھے کارکنوں کی صورت میں اس آمد میں بہت کچھ اضافہ ہو سکتا ہے مگر مشکل یہی ہے کہ تجربہ کار اور محنتی کارکن جو آمد بڑھا ئیں وہ ہمیں ابھی تک میسر نہیں آئے۔سندھ اور پنجاب کے حالات بھی مختلف ہیں۔سندھ میں مزارع زیادہ ہیں اور مالک کم ہیں۔اس وجہ سے مزارع محنت نہیں کرتے اور پیدا وار اتنی نہیں ہوتی جتنی ہونی چاہیئے اور ان زمینوں سے اس کا 1/5 بچت بھی نہیں ہوتی جتنی پنجاب میں ہوتی ہے۔اس مہنگے زمانہ میں بھی وہاں اچھا مربعہ زمین ساڑھے تین سو چار سو روپیہ میں مل جاتا ہے جبکہ یہاں اچھا مربعہ زمین دو اڑھائی ہزار روپیہ میں ملتا ہے۔گویا یہاں کی نسبت وہاں کی آمد چھ گنا کم ہے۔مگر بہر حال وہ ایک جائیداد ہے اور کسی وقت اُس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔لیکن اس وقت سلسلہ کا بار اٹھانے میں وہ کوئی مدد نہیں دے رہی۔اس کے علاوہ سلسلہ کا مال بڑھانے کے لئے بعض اور کوششیں بھی کی گئی ہیں مگر ابھی تک ان کوششوں میں پوری کامیابی نہیں ہوئی۔بہر حال اس وقت تبلیغ کا کام اور قرضہ اتارنے کا کام سلسلہ پر اور سلسلہ کے مخلص افراد پر ہی ہے۔گزشتہ سال جو تحریک کی گئی تھی اس میں سے بھی ڈیڑھ لاکھ روپیہ سے زیادہ کی وصولی ابھی باقی ہے اور بوجھ اُسی طرح ہے جس طرح پہلے تھا۔گو ہندوستان سے باہر کی جماعتوں پر ہم زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنا بوجھ آپ اٹھانے کی کوشش کریں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ بعض جماعتیں کسی صورت میں بھی اپنا بوجھ خود اٹھا نہیں سکتیں۔مگر پھر بھی وہ اس کوشش میں لگی ہوئی ضرور ہیں۔اور بعض تو ایسی قربانی کر رہی ہیں جو ہندوستان کی جماعتوں کے لئے ایک نمونہ ہے۔پس ہماری جماعت کو چاہیئے کہ وہ اپنے فرائض کو یا در کھتے ہوئے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے تحریک جدید کے اس دور میں زیادہ سے زیادہ حصہ