خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 426

خطبات محمود 426 سال 1947ء تحریک کا اعلان کرتا ہوں۔مجھے کہا گیا ہے کہ مشرقی پنجاب کے لئے ہوئے احمدی جنہوں نے تحریک جدید میں حصہ لیا تھا اب کیا کریں؟ اگر وہ مجھ سے پوچھیں تو میں انہیں یہی کہوں گا کہ مومن خدا تعالیٰ پر بدظنی نہیں کیا کرتا۔اگر وہ اپنے ایمان اور اپنے حوصلہ کو اُن وعدوں کے مطابق بنائیں گے جو جماعت احمدیہ سے کئے گئے ہیں تو خدا تعالیٰ بھی اُن کے ایمان اور یقین اور تو کل کو ضائع نہیں کرے گا۔ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں کی حالت آئندہ خراب ہو جائے یا خراب ہی رہے اور سُدھر نہ سکے۔مگر اس امر کے بھی سامان ہیں کہ اگر وہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں اور اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی تدبیروں اور عقل اور دماغ سے کام لیں تو اُن کی آئندہ حالت اُس سے بہت اچھی ہو جائے جو مشرقی پنجاب میں تھی۔جہاں تک خدا نے مجھے عقل دی ہے میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے لئے ترقی کے راستے پہلے سے بہت زیادہ کھلے ہیں۔انسان کی عقل ہی ہوتی ہے جو اُسے ترقی کی طرف لے جاتی ہے اور جہالت ہی ہے جو ا سے تباہ کرتی ہے۔مُردہ دل انسان کے ہاتھ اور پاؤں میں بھی ردنی ہوتی ہے اور وہ اپنی قوتوں سے کام لینے کی بجائے اُن کو ضائع کر دیتا ہے۔لیکن جس شخص کے اندر زندگی کی روح ہوتی ہے اس کے ہاتھ اور پاؤں میں بھی زندگی کی علامات نظر آنے لگتی ہیں۔جو شخص خدا تعالی پر توکل کرتا ہے اُس کے دماغ میں روشنی پیدا کی جاتی ہے اور جس کے دماغ میں روشنی پیدا کی جائے جی اُسے آپ ہی آپ کامیابی کے راستے نظر آنے لگ جاتے ہیں۔در حقیقت انسان اپنی موت آپ مرتا ہے۔خُدا نے انسان کے لئے زہر نہیں بنایا تریاق پیدا کیا ہے۔ہر انسان جو مرتا ہے اپنے لئے آپ زہر پیدا کرتا ہے۔اگر انسان اللہ تعالیٰ پر سچا تو کل کرے تو اُس کی کامیابی کے کئی رستے نکل آتے ہیں۔صحابہ نے جب مکہ چھوڑا اور اپنی جائیدادوں کو ترک کیا تو بظاہر وہ اپنے تمام مکانات اور تمام مال ومتاع کو اپنے پیچھے چھوڑ گئے تھے۔مگر اپنے وقت پر مرنے والے مہاجرین مکہ کی اُس زندگی سے کہیں بڑھ کر تھے جو اُنہیں مکہ میں حاصل تھی۔مکہ کے بڑے بڑے مالداروں میں حضرت عثمان اور حضرت ابو بکر تھے لیکن جس حالت میں یہ لوگ فوت ہوئے ہیں جہاں تک مالی حالت کا سوال ہے اُن کی حالت اُس سے بہت بڑھ کر تھی جس حالت میں وہ مکہ میں سے نکلے تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب حضرت عثمان فوت ہونے لگے تو اُن کے پاس روپیہ نہیں تھا۔مگر روپیہ کا فقدان اس لئے نہیں تھا کہ وہ کنگال تھے بلکہ اس لئے تھا جیسا کہ انہوں نے خود بھی