خطبات محمود (جلد 28) — Page 427
خطبات محمود 427 سال 1947ء بتایا کہ انہوں نے اپنے رشتہ داروں اور دوسرے اسلامی کاموں میں اپنی موت سے پہلے اپنا تمام روپیہ خرچ کر دیا تھا۔حضرت عبدالرحمن بن عوف فوت ہوئے تو اڑھائی کروڑ درہم ان کے گھر سے نکلا۔اس زمانہ کے لحاظ سے اڑھائی کروڑ درہم کے یہ معنی ہیں کہ وہ اڑھائی ارب درہم کی جائیداد تھی۔دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لو کہ ساٹھ کروڑ روپیہ ان کے گھر میں سے نکلا۔حالانکہ آجکل جو بڑے بڑے ملینز (Millionair) ہیں ان کے گھروں سے بھی ساٹھ کروڑ روپیہ کی نہیں نکل سکتا۔تو اللہ تعالیٰ کے لئے جو لوگ قربانیاں کرتے ہیں اُن کی قربانیاں کبھی ضائع نہیں ہے جاتیں۔اور اگر بفرض محال کسی کی موت اُس وقت سے پہلے ہو جاتی ہے جب خدا کی طرف کامیابی کے رستے کھولے جاتے ہیں تو پھر بھی کیا ہے۔یہ دنیا نہایت محدود چیز ہے۔اصل زندگی تو وہ ہے جو اگلے جہان سے شروع ہوتی ہے۔اگر کسی کی اگلی زندگی سُدھر جائے اور دنیا میں اُسے کچھ نقصان بھی پہنچ جائے تو یہ نقصان کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔جہاں تک میں دیکھتا ہوں عقل سے کام لینے والے کے لئے بہت رستے کھلے ہیں۔محنت سے کام لینے والے کے لئے بہت رستے کھلے ہیں۔افسوس یہ ہے کہ بہت سے لوگ محنت نہیں کرتے بلکہ چاہتے ہیں کہ پکی پکائی روٹی انہیں مل جائے۔اور من اور سلامی اُن کے لئے آسمان سے اُترے۔حالانکہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی جو سمجھ دی ہے اُس کے لحاظ سے تو ہم سمجھتے ہیں کہ پہلے من وسلویٰ بھی آسمان سے نہیں اترے بلکہ زمین میں سے نکالے گئے تھے۔اور آسمان پر گئے ہوئے مسیح کے متعلق بھی ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ آسمان پر نہیں گئے بلکہ زمین میں ہی مدفون ہیں۔جب اس قسم کے پہلے غلط خیالات بھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے ذریعہ سے دُور کر دئے ہیں تو اب تم اسی قسم کے اور غلط خیالات کس طرح اپنے دلوں میں رکھ سکتے ہو۔پس اگر وہ لوگ مجھ سے پوچھیں تو میں انہیں یہی کہوں گا کہ وہ اپنے وعدوں میں کمی نہ کریں۔بلکہ خدا تعالیٰ پر تو گل کرتے ہوئے اپنے اخلاص اور قربانی کی روح کا مظاہرہ کریں۔اگر خدا تعالیٰ انہیں تو فیق دے تو وہ اپنے وعدہ کو دورانِ سال میں پورا کر دیں اور اگر ادا کرنے کی توفیق نہ ملے تو اس رقم کو قرض تصور کر کے اگلے سال کے چندہ میں بڑھا دیں۔پھر اگلے سال ادائیگی کی کوشش کریں اور اگر اس سال بھی ادا کرنے کی انہیں توفیق نہ ملے تو دونوں سالوں کی رقم اپنے اوپر قرض تصور