خطبات محمود (جلد 28) — Page 419
خطبات محمود 419 سال 1947ء حقیقت تھا اور تمہاری حقیقت صرف ایک خیالی امر تھا۔جب تم سمجھتے تھے کہ تم بالکل مامون اور محفوظ ہوا ور تم پر مصائب کے ایام آنے والے نہیں تو تم ایک خطرناک وہم میں مبتلا تھے۔ایسا وہم جو قوموں کو تباہ کر دیا کرتا ہے۔اور جب میں سمجھتا تھا کہ ہماری جماعت پر خطر ناک ابتلاء آنے والے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان ابتلاؤں کے آنے سے پہلے اپنے مبلغ بھی دنیا کے تمام ممالک میں پھیلا دیں اور اپنا لٹریچر بھی دنیا کے تمام ممالک میں بھجوا دیں تو میں اس حقیقت پر قائم تھا جو روزِ روشن کی طرح ایک دن ظاہر ہونے والی تھی۔غرض میرا وہم نظر آنے والا خیال حقیقت تھا اور تمہارا حقیقت نظر آنے والا خیال و ہم تھا اور اس حکمت کے ماتحت بیرونی ممالک میں مشن قائم کئے گئے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب طور پر کام کر رہے ہیں۔اگر ہندوستان سے احمدیت کو مٹا دیا جائے تب بھی یہ ایک حقیقت اور سچائی ہے کہ وہ صداقت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لائے اب دنیا سے مٹ نہیں سکتی اور خدا نے اس کے لئے ظاہری سامان بھی پیدا کر دئیے ہیں۔آج دنیا کے ہر خطہ اور ہر علاقہ میں احمدی موجود ہیں۔افغانستان میں بھی موجود ہیں۔ایران میں بھی موجود ہیں۔عرب میں بھی موجود ہیں۔مصر میں بھی موجود ہیں۔ایسے سینیا میں بھی موجود ہیں۔ایسٹ افریقہ میں بھی موجود ہیں۔ویسٹ افریقہ میں بھی موجود ہے۔انگلستان میں بھی ہیں۔یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ میں بھی موجود ہیں۔ارجنٹائن میں بھی موجود ہیں۔انڈونیشیا میں بھی موجود ہیں۔ملایا میں بھی موجود ہیں۔سیلون میں بھی موجود ہیں۔برما میں بھی موجود ہیں۔چائنا میں بھی کچھ آدمی موجود ہیں۔اسی طرح ماریشس وغیرہ جزائر میں بھی موجود ہیں۔غرض دنیا کے ہر خطہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور آپ کے ماننے والے لوگ موجود ہیں۔یہ تو ہمارا کوئی دشمن بھی خیال نہیں کر سکتا کہ وہ ساری دنیا کو ایک دم فتح کر کے احمدیت کو تباہ کر سکتا ہے۔اگر دس ملکوں میں سے بھی احمدیت کو مٹا دے گا تو گیارھواں بارھواں اور تیرھواں ملک ایسا ہو گا جس میں احمدیت موجود ہو گی اور سلسلہ کا لٹریچر موجود ہو گا اور وہ لوگ پھر نئے سرے سے احمدیت کو پھیلانے کے لئے ایک نئی جد و جہد کا آغاز کر سکیں گے۔دراصل خدا تعالیٰ کا وقت پر اس چیز کی طرف توجہ پھر ا دینا یہ بھی خدا تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔ورنہ میں بھی ایک ویسا ہی انسان ہوں جیسے اور انسان ہیں۔مگر جن باتوں کے متعلق خدا تعالیٰ نے مجھے آج