خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 396

سال 1947ء 396 خطبات محمود اجمالی قرآن سوره فاتحہ ہے اور تفصیلی قرآن سورہ بقرہ سے سورۂ والناس تک ہے ۔ یہ دونوں حصے مجموعی طور پر قرآن کہلاتے ہیں ۔ جن لوگوں نے سورۂ بقرہ کو پہلی سورۃ سمجھتے ہوئے سورۂ فاتحہ کو قرآن سے الگ سمجھا ہے وہ غلطی کرتے ہیں ۔ در حقیقت ایسے ہی لوگوں کے اعتراضات کو لے کر یورپین مصنف اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ قرآن کریم کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے حالانکہ کوئی اختلاف نہیں ۔ قرآن نام ہے سورۃ فاتحہ کی بسم اللہ سے لے کر وَ النَّاس کی س تک ۔ مگر جو مکمل قرآن ہے اس کا ایک حصہ سورۂ فاتحہ ہے اور ایک حصہ تفصیلی ہے جو سورہ بقرہ سے وَالنَّاس تک ہے۔ جب خدا نے مجھے فرمایا کہ إِنَّمَا اُنْزِلَتِ السُّوْرَةُ الْفَاتِحَةُ لِتَدْمِيرِ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ۔ تو اس کے یہ معنی تھے کہ سورہ فاتحہ اپنی ذات میں اور سورۂ فاتحہ کی جو تفصیل ہے وہ بھی ۔ کیونکہ وہ بھی انہی مضامین کی حامل ہے جو سورہ فاتحہ میں پائے جاتے ہیں ۔ فتنہ دجال کے استیصال کے سامان اپنے اندر رکھتی ہے۔ گویا در حقیقت اس کے مفہوم میں یہ امر شامل ہے کہ سورۂ فاتحہ سے لے کر قرآن کریم کے آخر تک فتنہ دجال کے توڑ دینے کے سامان بہم پہنچائے گئے ہیں ۔ فتنہ دجال کے معنی کرنے میں بھی بعض لوگ غلطی کرتے ہیں ۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ دجال سے مراد صرف وہ قوم ہے جس کا احادیث میں ذکر آتا ہے اور جس کے متعلق وعدہ تھا کہ وہ ایک خاص زمانہ میں ظاہر ہوگی ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک خاص زمانہ میں ظاہر ہونے والی ایک قوم ہے جس کا نام دجال ہے ۔ مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ دجال ایک لفظ ہے اور اس کے معنی جس پر بھی چسپاں ہو نگے وہ دجال ہی کہلائے گا ۔ مثلاً رنگتر 10 ایک لفظ ہے ۔ ہم اگر اپنے ملازم سے کہیں کہ میرے بستر پر ایک رنگترہ پڑا ہے اسے اٹھا لاؤ اور دوسرے دن ہم ملازم کو کہیں کہ بازار سے رنگترہ خرید لاؤ تو کیا وہ نوکر عقلمند کہلائے گا اگر وہ یہ کہے کہ کل آپ نے میرے سامنے کہا تھا کہ بستر پر سے رنگترہ اٹھالا ؤ آج بازار سے میں کہاں خرید لاؤں ۔ ہر شخص جس کے دماغ میں عقل ہو وہ جانتا ہے کہ بامعنی لفظ ان تمام چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے جن پر اس کے معنی صادق آ سکتے ہوں ۔ پھر کبھی ایک ہی لفظ سے قریب کی چیز کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوتا ہے اور کبھی بعید کی چیز کی طرف ۔ مثلاً کبھی آدمی سے ہم خاص آدمی مراد لیتے ہیں ۔ مگر اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ باقی آدمیوں کو ہم نے آدمیت کے دائرہ سے خارج کر دیا ہے۔ بلکہ اس وقت اس خاص کلام کے لحاظ نے آدمیت کے دائرہ سے خارج کر دیا ہے۔ بلا ص کلام کے لحاظ