خطبات محمود (جلد 28) — Page 395
خطبات محمود 395 (41) سال 1947ء اگر خدا تعالیٰ کے انعام کے وعدوں کو پورا ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہو تو ہمیشہ انبیاء کی جماعتوں کے نمونہ کو اپنے سامنے رکھو اور اس کے مطابق اپنے اندر تغیر پیدا کرو ( فرموده 14 نومبر 1947 ء بمقام رتن باغ لاہور ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ساڑھے تین سال کی بات ہے کہ میں مئی کے مہینہ میں ڈلہوزی گیا اور وہاں مجھے الہام ہوا کہ اِنَّمَا اُنْزِلَتِ السُّوْرَةُ الْفَاتِحَةُ لِتَدْمِيرِ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ۔سورۃ فاتحہ دجال کے فتنہ کو بیخ و بن سے اُکھیڑ دینے کے لئے نازل کی گئی ہے۔یہ تو ہر مسلمان پر واضح بات ہے کہ سورہ فاتحہ پنے اندر بہت سی خوبیاں رکھتی ہے۔وہ قرآن شریف کا ایک خلاصہ ہے اور قرآن کریم کا وہ حصہ جو اس کے بعد آتا ہے اس کی تفسیر ہے۔یہی وجہ ہے کہ سورۂ فاتحہ کو قرآن کریم کے لکھنے والوں نے پہلی سورۃ قرار نہیں دیا بلکہ پہلی سورۃ سورۃ بقرہ کو قرار دیا ہے۔اس لئے کہ اس کو پہلی سورۃ قرار دینے سے یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ یہ بھی تفصیلی قرآن کا حصہ ہے۔حالانکہ وہ قرآن کا حصہ تو ہے مگر تفصیلی قرآن کا حصہ نہیں۔اس نکتہ کے نہ سمجھے کی وجہ سے مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہوا ہے اور بعض نے سورۃ فاتحہ کو قرآن کریم سے الگ سمجھا ہے۔حالانکہ قرآن کریم سے سورہ فاتحہ الگ نہیں۔قرآن نام ہے دو حصوں کا۔ایک حصہ اجمالی قرآن ہے اور ایک حصہ تفصیلی قرآن ہے