خطبات محمود (جلد 28) — Page 391
خطبات محمود 391 سال 1947ء انعام سے محروم نہیں کیا تھا۔نوع کی قوم کو خدا تعالیٰ نے اس انعام سے محروم نہیں کیا تھا۔تم کو بھی خدا تعالیٰ نے اس انعام سے محروم نہیں کیا مگر جس نے کام کر لیا وہ انعام لے گیا اور جس نے نہ کیا وہ انعام سے محروم ہو گیا جہاں تک خدا کی دین کا سوال ہے تمہارے لئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے لئے بالکل یکساں ہے۔تم بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہو اور صحابہ بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت تھے۔بلکہ جہاں تک خدا کی دین کا سوال ہے۔موسیٰ اور عیسی" کی اُمتوں کے لئے بھی اس کے حاصل کرنے کا موقع تھا کیونکہ موسیٰ اور عیسی دونوں خدا تعالیٰ کے نبی تھے مگر موسیٰ اور عیسی کی امتوں نے وہ کوشش نہ کی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت نے کی اس لئے خدا تعالیٰ کا فضل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس رنگ میں نازل ہوا کہ آپ کی جماعت کا ہر فر داستاد بن گیا اور جب ہر فرد استاد بن گیا تو با وجود پھلوں کی کثرت کے انہیں گرانے کی ضرورت نہ رہی۔اس درخت کا ہر شگوفہ پھل بننے کا مستحق تھا اور اس کی ہر کیری ایک شیریں اور مزیدار آم بننے کی قابلیت اپنے اندر رکھتی تھی۔اور چونکہ ہر شگوفہ پھل بننے کا مستحق تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے ہر شگوفہ کو پھل بنا دیا اور چونکہ ہر کیری آم بنے کی مستحق تھی اس لئے خدا تعالیٰ نے ہر کیری کو آم بنادیا۔اگر تم بھی ایسے بن جاؤ تو خدا تعالیٰ تمہارے ساتھ بھی یہ سلوک کرنے کے لئے تیار ہے۔لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو لازمی طور پر تم میں سے کچھ لوگ گرائے جائیں گے۔اس لئے کہ بیکارمور اگر درخت پر رہے گا تو درخت گر جائے گا۔یہ ایک موٹی صداقت ہے جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔لیکن اگر تم میں سے ہر شخص استاد بن جائے تو جیسے میرے مالی نے کہا تھا کہ ان پھلوں کو نہ گرایا جائے اُسی طرح تمہیں بھی خدا تعالی گرنے سے محفوظ رکھے گا۔اس مالی میں تو خدا تعالیٰ والی قابلیت نہیں تھی جب اس نے مجھے کہا کہ آخر اتنا پھل کیوں ضائع کیا جائے اسے درخت پر ہی رہنے دیا جائے تو وہ باوجود اس خواہش کے درخت کی حفاظت نہ کر سکا اور وہ پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔لیکن اگر اس میں قابلیت ہوتی اور وہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کی استعداد اپنے اندر رکھتا تو وہ درخت کو اتنا مضبوط کر دیتا کہ وہ تمام پھل اٹھا سکتا اور اس طرح پھل بھی محفوظ رہتے او درخت بھی محفوظ رہتا۔بے شک اس مالی میں یہ قابلیت نہ تھی لیکن ہمارے خدا میں یہ قابلیت ہے۔