خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 387

خطبات محمود 387 سال 1947ء دانے والے مالٹے ہی لے لو اگر تم دو چارمن بھی بازار میں لے جاؤ تو تمہیں اس کی کوئی قیمت می نہیں ملے گی۔بلکہ قیمت کا کیا سوال ہے اگر تم اسے فروخت کے لئے لے جاؤ گے تو لوگ تمہیں پاگل سمجھیں گے۔پھر اگر وہ آم کیری کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔مالٹا یا سنگترہ اپنے اندر قاشیں۔پیدا کر لیتا ہے اور لوگ اس کی چٹنیاں بنا سکتے ہیں تو پھر وہ پیسے پیسے دو دو پیسے سیر دو سیر بک جائے گا۔لیکن وہی آم مکمل ہو کر بعض دفعہ پچاس روپے سینکڑہ بلکہ سو روپے سینکڑہ پکتا ہے اور وہی مالتا مکمل ہو کر بعض دفعہ دس روپے، پندرہ روپے ، ہیں روپے اور چھپیں رو پے سینکڑہ پکتا ہے۔گویا جس وزن کی کسی وقت ایک پیسہ بھی قیمت نہیں مل سکتی تھی یا جس وزن کے لے جانے پر لوگ فروخت کنندہ کو پاگل سمجھنے پر مجبور تھے وہی چیز کار آمد اور مفید بن جاتی ہے اور اسی چیز کے حصول کے لئے لوگ ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں۔یہی حال الہی سلسلوں کا بھی ہوتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کے انبیاء کی آواز دنیا میں بلند ہوتی ہے تو کچھ لوگ ایسے بھی ان کے ساتھ شامل ہوتے ہیں جو حقیقتا اس سچائی اور اس معرفت کے دلدادہ نہیں ہوتے جو انبیاء کی معرفت دنیا کو مل رہی ہوتی ہے۔وہ ہرنئی چیز کے قبول کرنے کے عادی ہوتے ہیں اور ان لوگوں کی فطرت اُس مکھی کی سی ہوتی ہے جو ہر پاخانہ اور ہر قے اور ہر پھل اور ہر کھانے پر غرض اچھی ہو یا بُری جو چیز بھی کھلی پڑی ہو اُس پر آ بیٹھتی ہے اور تھوڑی دیر ہاتھ پاؤں مارنے کے بعد اٹھتی اور دوسری چیز پر جابیٹھتی ہے۔وہ شہد کی مکھی نہیں ہوتی جو پھلوں اور پھولوں میں سے وہاں سے بھی مٹھاس نکال لیتی ہے جہاں سے انسان مٹھاس محسوس نہیں کرتا۔نیم جیسے کڑوے درخت سے شہد کی مکھی شہد نکال کر لے جاتی ہے۔گلاب جیسے کیلے پتوں میں سے وہ خوشبو اور شہد نکال کر لے جاتی ہے۔گویا مزے کا مزہ اور خوشبو کی خوشبو۔وہ کھٹے کے پھولوں میں سے جس کا پکا ہوا پھل بھی انسان کے لئے کھانا بعض دفعہ مشکل ہو جاتا ہے نہایت شیریں شہد نکال کر لے جاتی ہے۔اور بہت سے نازک مزاج اس شہد کی شیرینی کو برداشت کرنے کے بھی قابل نہیں ہوتے اور میٹھی چیز میں سے مٹھاس تو وہ نکالتی ہی ہے۔اس طرح ایسے لوگ جو اپنے اندر فطرت صحیحہ رکھتے ہیں۔جو اپنے اندر نیکی کی طاقت رکھتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی تعلیم جب ابھی ابتدائی حالت میں ہوتی ہے، جب ابھی اس نے مٹھاس پیدا نہیں کی ہوتی ، جب اُس کا پھل بظا ہر کر وا نظر آتا ہے اُس ذاتی جو ہر اور ذاتی قابلیت کی وجہ سے جو