خطبات محمود (جلد 28) — Page 30
خطبات محمود 30 سال 1947ء سال کا بجٹ تیار ہو سکے اور کارکن اندازہ لگانے میں غلطی نہ کھائیں۔اندازہ کے غلط ہو جانے سے بجٹ میں بہت سی مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں اور آئندہ کا م کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ نہ صرف ہم ہی تبلیغ کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ پنے فضل سے ہمارے لئے تبلیغ کے سامان پیدا کر رہا ہے۔ہمارے مبلغ ایک ملک میں سے گزرکر دوسرے ملک میں تبلیغ کے لئے جا رہے تھے کہ اُس ملک کے لوگوں نے ہمارے مبلغین کو کہا کہ آپ لوگ اتنی دور جا رہے ہیں اور ہمارا ملک جو کہ آپ کے رستہ میں ہے اس میں آپ تبلیغ نہیں کرتے۔آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ ہمارے ملک کو جو کہ رستہ میں ہے چھوڑ دیتے ہیں اور اس سے دور آگے کے ممالک میں آپ تبلیغ کرتے ہیں؟ جب اس قسم کے متواتر کئی پیغام ہمارے پاس آئے تو میں نے سمجھا کہ ان لوگوں کے دلوں میں یہ تحریک اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدا کی گئی ہے اور وہاں کے لوگوں کا خود مبلغ مانگنا اللہ تعالیٰ کی کسی خاص حکمت کے ماتحت ہے۔چنانچہ ہم نے وہاں کی گورنمنٹ سے اپنے مبلغ کے داخلہ کی اجازت مانگی لیکن گورنمنٹ نے ہمیں جواب دیا کہ یہاں کے لوگ آپ کے مبلغ کے داخلہ کو نا پسند کرتے ہیں اس لئے اجازت نہیں دی جا سکتی۔میں نے کہا چونکہ یہ خدائی تحریک ہے کہ وہاں کے غیر احمدیوں نے خود مبلغ کے بھجوانے کی خواہش ظاہر کی ہے اس لئے یہ جواب ہمارے لئے کافی نہیں۔ہم نے ایک پاس کے ملک والے مبلغ سے خط و کتابت کی کہ وہ اس دوسرے ملک کے کسی آدمی کو دین کے لئے زندگی وقف کرنے کی تحریک کرے تاکہ اس ذریعہ سے اُس ملک میں تبلیغ کا راستہ کھل جائے۔کیونکہ اُس علاقہ کے باشندوں کو گورنمنٹ داخل ہونے سے نہیں روک سکتی۔چنانچہ کل ہی وہاں سے جواب آیا ہے کہ ایک دوست نے اس ام کے لئے اپنی زندگی وقف کی ہے اور اس دوست نے قربانی کا نہایت اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے۔ان ممالک کا گزارہ پہلے ہی بہت مہنگا تھا اور اب جنگ کی وجہ سے تو اور بھی مہنگا ہو گیا ہے۔سفر ولایت میں جب ہم شام میں گئے تو میرے ساتھیوں میں سے ایک نے اپنی قمیص دھونے کے لئے دھوبی کو دی۔جب دھوبی قمیص دھو کر لایا تو اُس نے سوارو پیر قمیص کی دھلائی مانگی۔میرے ساتھی نے یہ کہا تم قمیص ہی لے جاؤ میں دھلائی نہیں دینا چاہتا۔کیونکہ دھلائی قمیص کی اصل قیمت سے زیادہ کی ہے۔چنانچہ وہ دھوبی قمیص لے کر چلا گیا۔تو ان ممالک کے گزارے اس قدر گراں ہیں کہ