خطبات محمود (جلد 28) — Page 31
خطبات محمود 31 سال 1947ء ہندوستان کے اخراجات پر اُن کا قیاس نہیں کیا جاسکتا۔باوجود ان باتوں کے اس دوست نے جو گزارہ اپنے لئے لکھا ہے وہ نہایت قلیل ہے۔اس سے تو ہندوستان میں بھی گزارہ نہیں ہوسکتا۔وہ دوست نہ قادیان آئے اور نہ ہی انہوں نے سلسلہ کی کتب کا کوئی مطالعہ کیا ہے۔لیکن قربانی کا جونمونہ اس دوست نے پیش کیا ہے اُس پر رشک آتا ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ میں اپنی زندگی وقف کرتا ہوں۔میں اپنا کام چھوڑ کر قادیان تعلیم کے لئے آنے کو تیار ہوں۔میری دو بیویاں اور ( دو مائیں ) اور بچے ہیں۔ان کے گزارہ کے لئے مجھے صرف اتنی اجازت دی جائے کہ میں قادیان میں کچھ کام کر کے اُن کو گزارہ بھجواسکوں۔اور گزارے کی رقم جس کے لئے اُنہوں نے کام کرنے کی اجازت مانگی ہے وہ ہیں روپے لکھی ہے۔وہ انگریزی درزی ہیں اور کٹنگ کا کام کرتے ہیں۔ہم نے اُن کو لکھا ہے کہ ہم آپ کو اور آپ کے بیوی بچوں کو بھی گزارہ دیں گے آپ قادیان آجائیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف اللہ تعالیٰ دینی کاموں میں ہماری مدد فرماتا ہے بلکہ اپنے فضل سے نئے نئے ملک ہمارے سامنے پیش کر رہا ہے کہ ان میں بھی تبلیغ کرو۔ہمارے جو مبلغ سپین میں کام کر رہے ہیں اُنہوں نے وہاں سے لکھا ہے کہ جو لوگ عربی ممالک کے یہاں آتے ہیں وہ ہم سے پوچھتے ہیں کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ عیسائی ملکوں میں تو ہے تبلیغ کرتے ہیں اور ہمارے ملکوں میں تبلیغ نہیں کرتے۔گویا ہمارے ایک ایک ملک کے مبلغوں سے دوسرے ملکوں کے لوگ ہماری جماعت کے متعلق علم حاصل کرتے ہیں اور پھر وہ مبلغین کا مطالبہ شروع کر دیتے ہیں۔اور یہ سلسلہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔اور خدائی ارادہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے تبلیغی پروگرام کو زیادہ وسیع کرنا چاہتا ہے۔اور مبلغین جتنے زیادہ ہوتے جائیں گے اُتنا ہی جماعت پر بوجھ بڑھتا جائے گا۔ہمیں مبلغ حاصل کرنے کے لئے مدارس میں زیادہ طلباء کو داخل کرنا پڑے گا اُن کو وظائف بھی دینے ہوں گے۔اور پھر نئے نئے مشن کھولنے کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔لیکن ان اخراجات کو دیکھ کر میں گھبرا تا نہیں۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی آواز کوسن کر کافر کے سوا کوئی پیچھے نہیں رہ سکتا۔اور اس شخص سے زیادہ شقی اور بد قسمت اور کون ہوسکتا ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ملاقات کے لئے بلایا اور وہ پیچھے بیٹھا رہا۔اُس کے کانوں میں اللہ تعالیٰ کی آواز میں آئیں لیکن وہ اپنے غفلت سستی اور بخل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ