خطبات محمود (جلد 28) — Page 368
خطبات محمود 368 سال 1947ء درست ہیں۔انہوں نے لکھا کہ یہ عورت بڑی شریف اور با انصاف معلوم ہوتی ہے مگر کل عزیز مرزا مظفر احمد نے سیالکوٹ سے اطلاع دی ہے کہ لیڈی مونٹ بیٹن یہاں تھیں اور ان کے ساتھ مس سارا بائی بھی تھیں۔ان سے قادیان کے حالات دریافت کئے گئے تو انہوں نے کہا تم جانتے ہی ہو کہ احمدیوں کی رپورٹیں مبالغہ آمیز ہوتی ہیں۔پھر جنرل تھا یا وہاں گئے تو انہوں نے کی بھی احمدیوں کے سامنے کہہ دیا کہ آپ لوگ جو کچھ کہتے ہیں بالکل درست ہے ہمارے افسروں نے غلط رپورٹیں کر کے ہمیں شرمندہ کیا ہے۔مگر ہندوستانی ریڈیو پر جنرل تھمایا کی رپورٹ کی بناء پر یہ اعلان کیا گیا کہ وہاں کچھ بھی نہیں ہوا۔تو اِنَّهُمْ اُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ کے الفاظ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ایک ایسی جماعت ہے جو منہ سے تو کہتی ہے کہ ہم سچ بولتے ہیں مگر ہے بڑی کذاب۔پس ایک تو اس الہام کا یہ مفہوم ہے اور شاید ہمیں اس الہام کے ذریعہ اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ایسے افسروں کی باتوں پر تمہیں اعتبار نہیں کرنا چاہیئے۔لیکن اس الہام کا ایک یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ جماعت کے بعض دوست اپنے فرائض ادا نہیں کرتے۔وہ منہ سے کچھ کہتے ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔وہ منہ سے تو کہتے ہیں ہماری جان دین کے لئے قربان ہے اور ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے مگر جب عمل کا وقت آتا ہے اور قربانیوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو وہ کمزوری دکھاتے اور کئی قسم کے بہانے بنانے لگتے ہیں۔دوسرا الہام کل ہی ہوا جو تہجد سے کچھ دیر پہلے مجھ پر نازل ہوا۔اس کے الفاظ یہ تھے کہ ذَالِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الرَّحِيم۔قادیان کے متعلق ہی میں دعا کر رہا تھا کہ یکدم یہ الہام میری زبان پر جاری ہوا اور پھر کافی دیر تک جاری رہا۔قرآن کریم میں یہ آیت تین دفعہ آئی ہے۔مگر تینوں جگہ العَزِيزُ الْعَلِیم کے الفاظ آتے ہیں۔لیکن جو الفاظ مجھ پر الہاما نازل ہوئے ان میں العَزِيزُ الْعَلِیم کی بجائے العَزِيزِ الرَّحِیم کے الفاظ آتے ہیں۔یعنی ذَالِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ اس الہام کے الفاظ تو ظاہری ہی ہیں اور عبارت میں بھی کوئی پیچیدگی نہیں۔مگر چونکہ آیت کا سیاق و سباق بھی ایک نئے معنی پیدا کر دیا کرتا ہے اس لئے میں نے قرآن کریم می میں دیکھا کہ ذلِك تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ 4 کس سیاق و سباق میں آتا ہے۔اس کے دیکھنے سے مجھے ایک عجیب بات معلوم ہوئی جس کی طرف پہلے میرا ذہن نہیں گیا تھا۔اور وہ یہ ہے