خطبات محمود (جلد 28) — Page 369
خطبات محمود 369 سال 1947ء کہ ذَالِكَ تَقْدِيرُ العَزِيزِ الْعَلِيمِ قرآن کریم میں تین دفعہ آیا ہے۔سورہ انعام میں آیا ہے۔سورہ حم سجدہ میں آیا ہے اور سورہ یسین میں آیا ہے۔جب میں نے ان تینوں جگہوں کو ایک وقت میں دیکھا تو مجھے یہ عجیب بات معلوم ہوئی کہ تینوں جگہ اس آیت سے پہلے نظامِ عالم کا ذکر آتا ہے۔اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قانون کبھی بدلا نہیں کرتا۔یہ تو خیر ایک نیا تو مضمون ہے جسے کبھی ان آیتوں کی تفسیر کرتے وقت انشاء اللہ بیان کر دیا جائے گا۔سر دست میں یہ کہنا تھ چاہتا ہوں کہ پہلے میرا ذہن چونکہ اس آیت کے سیاق و سباق کی طرف نہیں گیا تھا اس لئے انفرادی طور پر اس آیت کے جو معنی ذہن میں آسکتے تھے وہی آتے تھے۔مگر اب چونکہ مجھے تینوں مقامات ایک ہی وقت میں دیکھنے پڑے اس لئے اس آیت کے ایک نئے معنی سامنے آگئے جو ز نجیر کی کڑیوں کی طرح سیاق وسباق کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھتے تھے۔اور ظاہر ہوتا تھا اور تینوں مقامات میں ذلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ سے پہلے جو ایک ہی مضمون بیان کیا گیا ہے اور اس مضمون کے بعد یہ آیت نازل کی گئی ہے اس میں کیا حکمت ہے؟ در حقیقت یہ قرآن کریم کی صداقت کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔قرآن کریم کے متعلق لوگ اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس میں ترتیب نہیں۔حالانکہ قرآن کریم کی ترتیب اتنی واضح ہے کہ بعض دفعہ دو دو، چار چار سال کے وقفہ کے بعد آیات نازل ہوئی ہیں مگر جب بھی کوئی آیت نازل ہوئی ہے۔سیاق وسباق کے لحاظ سے اُس کا پہلی نازل شدہ آیات کے ساتھ نہایت گہرا ربط تھا۔ایک ترتیب تو اس رنگ کی ہوتی ہے کہ مثلاً یہ مضمون بیان کیا جائے کہ موسیٰ“ بھاگ کر فلسطین کی طرف آگئے۔یہ مضمون جب بھی بیان کیا جائے گا ہر شخص کہے گا کہ اس سے پہلے ضرور فرعون کا ذکر ہوگا۔یہ واقعاتی ترتیب ہوتی ہے جس میں کوئی خاص کمال نہیں ہوتا۔قرآن کریم کا کمال اس بات میں ہے کہ بعض دفعہ وہ عام الفاظ استعمال کرتا ہے۔ایسے الفاظ جن کے لاکھوں معنی لئے جا سکتے ہیں مگر پھر وہ الفاظ جن آیات میں آتے ہیں وہ سیاق و سباق۔تعلق رکھنے کی وجہ سے ایک خاص مضمون کی طرف اشارے کر رہے ہوتے ہیں۔عام معنی اُس جگہ مراد نہیں ہوتے۔مثلاً ذلِك تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر زمین کے متعلق بھی ہوسکتی ہے، آسمان کے متعلق بھی ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔حمد تجارت کے اچھا ہونے کے متعلق بھی ہو سکتی۔اصل مسودہ میں لفظ واضح نہیں (مرتب)