خطبات محمود (جلد 28) — Page 367
سال 1947ء 367 خطبات محمود نہیں کیا جا سکتا۔ اُردو میں بھی ضرب المثل ہے کہ ”آنکھوں دیکھے مکھی نہیں کھائی جاتی “ جو غلطی صاف طور پر نظر آتی ہے اگر اسے کوئی شخص برداشت کر لیتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی عقل اور سمجھ کمزور ہے ۔ اور جس کی عقل اور سمجھ کمزور ہو وہ ہدایت کی بھی پروا نہیں کیا کرتا اور یہ نہایت خطرناک بات ہے ۔ پس چھوٹی چھوٹی چیزوں کو یہ کہہ کر نہیں چھوڑ دینا چاہیئے کہ یہ چھوٹی ہیں بلکہ ہر کام میں نظام اور حُسنِ انتظام کا خیال رکھنا چاہیئے۔ اس کے بعد میں دوستوں کو دو ایسے الہاموں کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو تین چار دن ہوئے مجھ پر نازل ہوئے ہیں ۔ تین دن کی بات ہے مجھے الہام ہوا کہ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ وه ایک ایسا گروہ ہے جو تکلف سے نیکی ظاہر کرتا ہے۔ یعنی وہ نیک تو نہیں لیکن وہ دعوی خیر اور دعوی تقوی کرتا ہے۔ یہ آیت قرآن کریم میں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے متعلق آتی ہے ۔ لوط علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو مخاطب کیا اور انہیں پیغام دینا شروع کیا اور خدا تعالیٰ کا پیغام انہیں پہنچا کر ان کو باہر سے آنے والے لوگوں پر ظلم کرنے اور تجارت رنے اور تجارت میں دھوکا بازی کرنے سے منع کیا۔ تو قرآن کریم میں آتا ہے انہوں نے حضرت لوط سے حضرت لوط کے ماننے والوں کے متعلق کہا إِنَّهُمْ أَنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ 3 یہ لوگ بڑے نیک بنتے ہیں ۔ مطلب یہ کہ نیک نہیں مگر ہماری باتوں پر اعتراض کر کے اپنی بڑائی ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں اس الہام کا ظاہر انطباق ہندوستان یونین کے ان افسروں پر ہوتا ہے جو بڑے انصاف کا دعویٰ کرتے ہیں مگر صراحتاً جھوٹ سے کام لیتے ہیں۔ قادیان پر حملہ ہوا، سارے اکا بر گرفتار کئے گئے ، ہماری مقدس درس گاہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یادگار تھیں اُن پر قبضہ کر لیا گیا مکانات لوٹ لئے گئے جائیدادیں اپنے قبضہ میں لے لی گئیں اور ہندوؤں اور سکھوں کو ہمارے مکانات اور زمینوں پر بسا دیا گیا۔ اور احمدی ایک چھوٹی سی جگہ میں محصور ہونے پر مجبور ہو گئے ۔ اسی طرح دوسو سے زیادہ احمدی شہید کئے گئے ۔ مگر ہندوستانی ریڈیو برابر یہ اعلان کرتا رہا کہ ہمارے ذمہ دار افسر قادیان گئے ہیں اور انہوں نے رپورٹ کی ہے کہ یہاں کوئی فساد نہیں ۔ پچھلے دنوں قادیان سے دوستوں نے لکھا ہے کہ میں سارا بائی جو گاندھی جی کی نمائندہ تھیں یہاں آئی تھیں۔ اور انہوں نے نے حالات کو دیکھ دیکھ کر کر تسلیم کر لیا لیا ہے ہے کہ سرکاری رپورٹیں بالکل غلط ہیں اور اور احمدیوں کی باتیں