خطبات محمود (جلد 28) — Page 333
خطبات محمود 333 سال 1947ء اذْهَبُ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا اِنَّاهُهُنَا قَعِدُونَ و ہم قربانی کے موقع پر پیٹھ دکھانے والے نہیں بلکہ اپنی جانیں قربان کر کے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ثابت ہوں گے۔لیکن آج قربانی کا وقت آیا تو تم نے بھی کہہ دیا کہ اِذْهَبُ اَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُنَا فَعِدُونَ۔تم میں سے کئی لوگوں کی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی پور بیا مر گیا تو اس کے مرنے کے بعد پور بیوں کے دستور کے مطابق قبیلہ کے سب لوگ جمع ہوئے اور اس کی بیوی نے رونا پیٹنا اور واویلا کرنا شروع کر دیا۔بیوی روتی اور کہتی ہائے ہائے اس نے اپنے فلاں رشتہ دار سے اتنا روپیہ لینا تھا اب کون لے گا؟ اس پر ایک پور بیا بول اٹھا اور کہنے لگا اری ہم ری ہم۔پھر اس نے شور مچایا اور کہا فلاں فلاں مہینہ کی تنخواہ اس نے کپتان صاحب سے لینی تھی اب وہ تنخواہ کون لے گا ؟ وہی پور بیا پھر بولا کہ اری ہم ری ہم۔پھر وہ چلا ئی اور روئی ، بیٹی اور اس نے آنسو بہاتے ہوئے کہا۔اتنے جانور اُس نے ادھیارے پر دیئے ہوئے تھے اب اُن سے کون فائدہ اٹھائے گا ؟ اس پر وہی پور بیا پھر بولا اور کہنے لگا اری ہم ری ہم۔پھر وہ عورت اور زیادہ زور سے روئی۔اس نے کہا اس نے فلاں کا اتنے ہزار روپیہ قرض دینا تھا اب وہ کون دے گا ؟ اس پر وہ پور بیا کہنے لگا ارے بھائی ! میں ہی جواب دیتا جاؤں کہ قبیلہ میں سے کوئی اور شخص بھی بولے گا؟ تم میں سے بھی کئی ہیں جن کا یہی رنگ ہے۔جب تک احمدیت پھولوں کی سیج پر چل رہی تھی وہ بڑے بڑے دعوے کیا کرتے تھے اور جب کہا جاتا کہ تم میں سے کون اپنی جان قربان کرے گا تو اس پر پوریے کی طرح وہ بھی آگے بڑھتے اور کہتے اری ہم ری ہم۔مگر اب جب کہ احمدیت کو کانٹوں پر چلنا پڑا ہے، جب انہیں اپنے دائیں اور بائیں مشکلات ہی مشکلات نظر آتی ہیں وہ یہ ہے کہنے لگ گئے ہیں کہ ارے! کوئی اور بھی آگے چلے گا یا ہم ہی چلتے چلے جائیں۔دیکھو خدا تعالیٰ نے نجی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا أَمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ 10 - تیری جماعت کے لوگ یہ خیال کر لیں گے کہ احمدیت یہی ہے کہ بیعت کی ، چندہ دیا اور گھر میں آرام سے بیٹھے رہے اور وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جائیں گے کہ ان کو کوئی اور ابتلاء پیش نہیں آئے گا۔مگر فرماتا ہے ان کی یہ بات غلط ہے ان کو فتنوں میں ضرور ڈالا جائے گا۔ایسے ہی فتنوں میں جیسے پہلے انبیاء اور ان کی جماعتوں کو پیش آئے۔