خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 327

خطبات محمود 327 سال 1947ء الفضل والوں کو چاہیئے کہ پرانے فائل نکال کر ان میں سے بار بار ایسے حوالے شائع کریں۔پھر مصلح موعود والی خواب میں صریح ہجرت کا ذکر آتا تھا۔میں نے دیکھا کہ ایک فوج آئی ہے اور میں جس مقام پر ہوں وہاں سے بھاگ کر دوسری جگہ چلا گیا ہوں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی الہام ہے کہ داغ ہجرت 2 اور آپ نے اس الہام کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ ہجرت کرنا انبیاء کی سنت ہے۔مگر ضروری نہیں کہ نبی خود ہجرت کرے۔اس سے مراد اس کا بیٹا بھی ہو سکتا ہے۔لیکن اصل چیز جو دیکھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ پیغام دنیا میں لائے تھے کہ ایک بستی بنائی جائے گی اور اس پر کوئی شخص ظلم نہیں کر سکے گا یا یہ پیغام لے کر آئے تھے کہ میں بندے اور خدا کے درمیان صلح کرانے کے لئے آیا ہوں۔میں بندے اور خدا کو آپس میں ملانے کے لئے آیا ہوں۔میں قرآن کریم کی اہمیت اور اس کی تھی صداقت دنیا میں روشن کرنے کے لئے آیا ہوں۔میں قرآن کریم کی حکومت دنیا میں قائم کرنے کیلئے آیا ہوں۔اگر تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں اس لئے آئے ہوتے کہ وہ ایک بستی بسائیں اور اُس بستی کو بغیر ان ابتلاؤں میں پڑنے کے جو نبیوں کی جماعتوں پر آیا کرتے ہیں پھولوں کی سیج پر سفر کرتے ہوئے انتہائی ترقی پر لے جائیں۔تو پھر بے شک ہماری جماعت کو یہ امید نہیں کرنی چاہیئے تھی کہ کوئی ابتلاء آئے اور کوئی ٹھو کر اسے لگے۔لیکن اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام باقی انبیاء کی سنت پر آئے ہیں تو کیا تم کوئی ایک نبی بھی ایسا پیش کر سکتے ہو جس کی جماعت شدید ترین مصائب میں سے نہ گزری ہو؟ ان کو گرفتار کیا گیا، ان کو قتل کیا گیا، ان کو پھانسی پر لٹکایا گیا ، ان کو تلواروں سے شہید کیا گیا۔گولیاں تو اُس زمانہ میں تھیں ہی نہیں۔اگر لاکھوں میں سے کوئی ایک نبی بھی ایسا ہوتا جس کی جماعت ان مصائب میں سے نہ گزری ہوتی تو تم کہہ سکتے تھے کہ ہمارے ساتھ اُس نبی جیسا سلوک ہونا چاہیئے۔صرف ایک وجو درسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے جن کو غیر معمولی ترقیات حاصل ہوئیں۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سالہا سال تک ایسی تکالیف میں سے گزرنا پڑا کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں۔آپ کے صحابہ کو یکے بعد دیگرے ہجرت کرنی پڑی۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ماریں کھانی پڑیں۔کئی دفعہ کفار نے آپ کو پکڑ کر مارا۔کئی دفعہ آپ کا گلا گھونٹا گیا۔یہاں تک کہ حدیثوں میں آتا ہے شدت تکلیف کی وجہ سے آپ کی آنکھیں باہر نکل آتی تھیں۔ایک دفعہ خانہ کعبہ میں کفار نے