خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 321

خطبات محمود 321 سال 1947ء اصلاح پیدا کر لو تو پھر خدا نئے سرے سے دنیا میں احمدیت کو مضبوطی سے قائم کر دے گا۔پس تم میں فوری طور پر ایک نئی تبدیلی پیدا ہونی چاہیے۔مگر افسوس ہے کہ ابھی تم میں وہ تبدیلی پیدا نہیں ہوئی۔تم میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو باوجو د سب کچھ دیکھنے کے یوں سمجھتے ہیں کہ کوئی واقعہ ہی نہیں ہوا۔گویا یہ ایک خواب تھا جو انہوں نے دیکھا۔حالانکہ جو واقعات ظاہر ہوئے ہیں وہ بتاتی رہے ہیں کہ اب نہ تمہیں مال کی پروا ہونی چاہیے ، نہ جان کی پروا ہونی چاہیے اور نہ کسی اور چیز کی پر وا ہونی چاہیے۔کیا جالندھر، گورداسپور ، لدھیانہ اور فیروز پور کے لوگوں کو آج سے ایک سال پہلے دس ہزار مولوی بھی قرآن پر قسم کھا کر کہتا کہ تمہاری جائیداد میں تم سے چھین لی جائیں گی تو وہ ہے اس بات کو ماننے کے لئے تیار ہو سکتے تھے؟ بلکہ میں کہتا ہوں اگر خانہ کعبہ میں کھڑے ہو کر آج سے ایک سال پہلے دس ہزار مولوی بھی یہ کہتا کہ ان لوگوں کی جائیدادیں ان سے چھین لی جائینگی تو لوگ پھر بھی اعتبار نہ کرتے اور یہی کہتے کہ جھوٹ بول کر خانہ کعبہ کی ہتک کی گئی ہے۔مگر جو کچھ ہوا وہ اس سے بہت زیادہ ہے۔دنیا کی تاریخ میں اتنے بڑے قتل عام کی آج تک کوئی مثال ہے نہیں ملتی۔اور ابھی یہ روڑ کی نہیں۔میرے پاس کئی غیر احمدی رؤساء آتے ہیں اور مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ کو اس کا خاتمہ بھی نظر آتا ہے؟ میں اُنہیں کہا کرتا ہوں کہ میں تم کو کیا بتاؤں۔اگر تم ایک گیند پھینکو تو میں تمہیں بتادوں گا کہ یہ اتنی دور جا کر ٹھہرے گا ، اگر تم ایک اینٹ پھینکو تو میں تمہیں بتا دوں گا کہ کتنی دور جا کر گر جائے گی۔مگر یہ انسان کا کام ہے۔اور انسان کے دماغ میں نئے نئے خیالات اٹھتے رہتے ہیں اگر ایک آدمی دوڑ رہا ہو تو اس کے متعلق کیا علم ہو سکتا ہے کہ وہ کتنی دور جا کر رکے گا۔بے جان چیز کو دیکھ کر تو ایک اندازہ لگایا جاسکتا ہے مگر جاندار میں چونکہ نئے نئے احساسات پیدا ہوتے رہتے ہیں اس لئے اس کے متعلق کوئی صحیح اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ خدائی سنت ہے اور تمام دنیا کی تاریخ اس پر شاہد ہے کہ ایسے دور لمبے نہیں چلتے۔اور پھر اس کے ساتھ ہی اس کی دوسری سنت یہ ہے کہ ایسے ظالم ضرور سزا پاتے ہیں اور خدا ان کی تباہی کے لئے ضرور کوئی نہ کوئی اندرونی یا بیرونی سامان پیدا کر دیا کرتا ہے۔مگر یہ دنیا داروں کی باتیں ہیں۔ہمارے سامنے صرف یہ مقصد ہونا چاہیئے کہ خدا نے ایک پیغام ہمارے سپرد کیا ہے اور مرنے سے پہلے اُس پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچانا ہمارا فرض ہے۔جس دن یہ روح تم میں