خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 297

خطبات محمود 297 سال 1947ء سارا قادیان شامل ہے اور باقی مساجد مسجد مبارک کے تابع ہیں۔مجلس شوری میں فیصلہ کیا گیا کہ قرعہ کے ذریعہ سے ایک حصہ قادیان میں رہے گا اور ایک حصہ باہر آرام کرنے کے لئے آجائے گا۔اسی طرح یہ کہ باہر کی جماعتیں اپنے مرکز کی حفاظت کے لئے کچھ زائرین کو باری باری بھجواتی رہیں گی۔خواب سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ممکن ہے ہمیں بعض اُن دیہات کو بھی چھوڑنا پڑے جو اب تک ہم نے نہیں چھوڑے۔جیسا کہ بعد کی رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے وہ دیہات بھی چھوڑنے پڑے ہیں۔بہر حال خواب بتاتی ہے کہ ہم ہی سے ایک حصہ قادیان سے باہر تو نکلے گا مگر اس لئے نہیں کہ اُس مقام کو ہم چھوڑ دیں بلکہ اس لئے کہ ایسی تنظیم کریں کہ قادیان احمدیت کے ہاتھ ہی میں رہے۔پس قریب ہو یا بعید انشاء اللہ ہم ضرور اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے۔اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر کامل یقین رکھتے ہیں۔مومن دنیا میں کہیں مایوس نہیں ہوتا اور مومن دنیا میں اپنی جان کو قربان کرنے سے کبھی ہچکچاتا نہیں۔مومن کی جان در حقیقت خدا تعالیٰ کی امانت ہوتی ہے اگر وہ پیچھے ہٹتا ہے تو محض خدا کے لئے اور اگر وہ آگے بڑھتا ہے تو محض خدا کے لئے۔میں اگر یہاں آیا ہوں تو اس لئے کہ جماعت کی تنظیم کروں اور لڑائی کو تا حد امکان لمبا کرنے کی کوشش کروں اور دنیا کو توجہ دلاؤں کہ قادیان پر سخت ظلم ہو رہا ہے۔اسی طرح میرے بچے اور میرے بھائی اور میرے بھتیجے اور میرے داماد قادیان میں بیٹھے ہیں تو اس لئے کہ خدا تعالیٰ کے دین کی خاطر وہ اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کریں اور اس کی رضا پر راضی رہیں۔در حقیقت مومن ہر رنگ میں خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کا خواہشمند ہوتا ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بتایا ہے ہمیں دو برکتوں میں سے ایک برکت ضرور مل کر رہے گی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن کو ڈر ہی کیا ہو سکتا ہے جب دو برکتوں میں سے ایک برکت اسے ضرور مل کر رہے گی یعنی یا تو می اسے فتح حاصل ہو جائے گی اور یا اسے شہادت نصیب ہو جائے گی 6۔پس مومن کبھی میدان سے بھاگتا ہے نہیں کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ ان دونوں چیزوں میں سے جو چیز بھی خدا تعالیٰ نے میرے لئے مقدر کی ہے وہ بڑی برکت والی ہے۔اگر ہمیں شہادت میسر آجاتی ہے تو وہ بھی خدا تعالیٰ کا انعام ہے اور اگر ہمیں فتح ہے مل جاتی ہے تو وہ بھی اُس کا انعام ہے۔بہر حال ہم یہ ہمیشہ کہتے ہیں ، کہتے رہے ہیں اور کہتے رہیں گے کہ جہاں تک انسانی طاقت کے لحاظ سے ممکن ہے ہم اس علاقہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا