خطبات محمود (جلد 28) — Page 294
خطبات محمود 294 سال 1947ء ہیں۔اور لوگوں کو میں پہچانتا نہیں صرف اتنا جانتا ہوں کہ وہ احمدی ہیں۔حافظ صاحب نے مجھ سے مصافحہ کیا اور کہا کہ بڑی تباہی ہے۔بڑی تباہی ہے۔پھر ایک شخص نے کہا کہ نیلے گنبد میں ہم داخل ہونے لگے تھے مگر وہاں بھی ہمیں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔میں نے تو نیلا گنبد لا ہور کا ہی سُنا ہوا ہے۔وَ اللهُ اَعْلَمُ کوئی اور بھی ہو۔بہر حال اُس وقت میں نہیں کہہ سکتا کہ نیلے گنبد کے لحاظ سے اس کی کیا تعبیر ہو سکتی ہے۔مگر اب میں نے سوچا تو اس کی تعبیر سمجھ میں آگئی۔گنبد نیلی آسمان کو کہتے ہیں۔اور اس امر کی کہ ہمیں نیلے گنبد میں بھی داخل نہیں ہونے دیا گیا تعبیر یہ تھی کہ لوگ ا۔اپنے گاؤں اور شہروں سے نکل کر کھلے آسمان کے نیچے ڈیرے ڈال دیں گے مگر وہاں بھی دشمن اُن کو اطمینان سے نہیں رہنے دے گا۔چنانچہ واقعات سے ثابت ہے کہ جب مسلمان گھلے آسمان کے نیچے پڑے تھے تو سکھوں نے اُن کو لوٹا اور ان میں سے بہت لوگوں کو مار ڈالا۔گویا آسمان کے نیچے بھی اُنہوں نے حملہ کیا اور وہاں بھی اُن کو رہنے نہ دیا۔آسمان کو ہمارے شاعر گنبد نیلی کہتے ہیں۔اور یہی بات رؤیا میں بیان کی گئی تھی کہ لوگوں کو آسمان کے نیچے بھی پناہ نہیں لینے دی جائے گی۔اس کے بعد حافظ صاحب نے کوئی واقعہ بیان کرنا شروع کیا۔وہ اسے بڑی لمبی طرز سے بیان کرتے تھے۔جس طرح بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بات کو جلدی ختم نہیں کرتے بلکہ اُسے بلا وجہ طول دیتے چلے جاتے ہیں۔اسی طرح حافظ صاحب نے پہلے ایک لمبی تمہید بیان کی اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جالندھر کا کوئی واقعہ بیان کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہاں بھی بڑی تباہی ہوئی ہے۔اور ایک منشی کا جو غیر احمدی ہے اور پٹواری یا گرد اور ہے بار بار ذکر کرتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ منشی جی ملے اور انہوں نے بھی اسی طرح کہا ہے۔میں خواب میں بڑا گھبراتا ہوں کہ یہ موقع تو حفاظت کے لئے انتظام کرنے کا ہے اور اس بات کی ضرورت ہے کہ کوئی مرکز تلاش کیا جائے انہوں نے منشی جی کی باتیں شروع کر دی ہیں۔چنانچہ میں اُن سے کہتا ہوں کہ آخر ہوا کیا ؟ وہ کہنے لگے منشی جی کہتے تھے کہ ہماری تو آپ کی جماعت پر ہی نظر ہے۔میں نے کہا بس اتنی ہی بات تھی نا کہ منشی جی کہتے تھے کہ اب اُن کی جماعت احمد یہ پر نظر ہے۔یہ کہ کر میں انتظام کرنے کے لئے اُٹھا اور چاہا کہ کوئی مرکز تلاش کروں کہ میری آنکھ کھل گئی۔دیکھو یہ کتنی واضح خواب ہے۔اس میں صاف طور پر دشمن کا حملہ معلوم ہوتا ہے۔قادیان کا خطرہ میں گھر جانا معلوم ہوتا ہے۔اس میں یہ بھی ذکر آتا ہے کہ میں وہاں سے نکل آیا ہوں۔