خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 288

سال 1947ء 288 خطبات محمود حضرت نظام الدین صاحب اولیاء اور حضرت فر اور حضرت فرید الدین صاحب شکر گنج والوں کو ہندوستان کو مسلمان بنانے کا ملا اُس سے کہیں بڑھ کر عذاب تمہیں ہندوستان سے اسلام کے ختم کرنے کی وجہ سے ملے گا ۔ پس مشرقی پنجاب میں تم پھر واپس جاؤ ۔ بیشک اپنی عورتوں اور بچوں کو اِدھر چھوڑ جاؤ لیکن اگر تم نے اُس ملک کو خالی کیا تو اسلام کا نام و نشان تک اُس میں سے مٹ جائے گا ۔ اور پھر نا معلوم سینکڑوں سال بعد یا کب اسلام کی دوبارہ ترقی کے لئے اللہ کی طرف سے نئی رو پیدا ہو۔ یہ چیزیں بے شک ابتداء والی ہیں مگر تمہیں یہ بھی تو سوچنا چاہیئے کہ خدا تعالیٰ نے پہلے سے یہ تو کہ خدا تعالیٰ ہمیں ان باتوں کی خبر دی ہوئی ہے۔ اگر اُس کی مُنذر خبریں تمہارے دلوں کو پریشان کرتیں اور مسلمانوں کا ننزل تم کو مگین بناتا ہے تو کیا اُس کی بشارتیں تمہارے دلوں میں ایمان پیدا نہیں کرتیں؟ اور کیا تم یقین نہیں رکھتے کہ جس خدا کی وہ باتیں پوری ہو گئیں جو مسلمانوں کے تنزل کے ساتھ تعلق رکھتی تھیں اُس خدا کی وہ باتیں بھی ضرور پوری ہو کر رہیں گی جو اسلام کی ترقی کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں؟ کی خبر دی ہوئی ہے۔ اگر اس کی مادر خبریں تمہارے ہے۔ کی مندر دلوں کو سرحد کے ایک ایگزیکٹو انجینئر چودھری فقیر محمد صاحب تھے۔ میری لڑکی ناصرہ اور میری مرحومہ بیوی ساره بیگم نے امتحان دینا تھا۔ میں نے اُن سے کہا کہ اگر تم امتحان پاس کر لو تو میں تمہیں دہلی ، ڈیرہ دون اور منصوری کی سیر کراؤں گا ۔ اُنہوں نے محنت کی اور وہ پاس ہو گئیں ۔ میں اپنے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے اُنہیں سیر کے لئے لے گیا ۔ ہم دلی میں ٹھہرے ہوئے تھے اور دتی کے قلعہ کی سیر کر رہے تھے۔ وہاں قلعہ میں ایک چھوٹی سی شاہی مسجد ہے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ اب اس مسجد میں کون نماز پڑھتا ہوگا ۔ چلو ہم ہی نماز پڑھ لیں ۔ چنانچہ میں نے اور میری بیوی اور لڑکی نے نوافل شروع کر دیئے ۔ میری بیوی اور لڑکی نے تو جلدی نماز ختم کر لی مگر میں نے لمبی نماز پڑھی۔ جب میں نے سلام پھیرا تو دیکھا کہ یہ دونوں میرے پیچھے کھڑی تھیں۔ اُنہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ پشاور کی بعض عورتیں جن میں ایک ماں اور ایک اُس کی لڑکی ہے یہاں قلعہ کی سیر کے لئے آئی ہوئی ہیں اور وہ ہم سے ملی ہیں ۔ لڑکی نے بتایا ہے کہ میرے سسرال احمدی ہیں اور میرے باپ اور چا بھی یہیں آئے ہوئے ہیں ۔ اگر ۔ اگر اُنہیں آپ پ سے ملاقات کرنے کا موقع مل سکے تو بڑی اچھی بات ہے ۔ میں نے کہا یہ معمولی بات ہے وہ مجھ سے مل لیں ۔ چنانچہ نماز ختم کر کے میں باہر آیا اور ہم اکٹھے چل پڑے ۔ تھوڑی دیر کے بعد مجھے خیال آیا کہ غالباً -