خطبات محمود (جلد 28) — Page 280
سال 1947ء 280 (32) خطبات محمود مومن عقل اور تدبیر کو ایک لمحہ کے لئے بھی اپنے ہاتھ سے۔ نہیں دیتا (فرمودہ 12 ستمبر 1947 ء بمقام لاہور ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : ذاورسورۃ وو وو سے جانے پہلے تو میں افسوس کے ساتھ اس امر کا اظہار کرتا ہوں کہ لاہور کی جماعت نے اس موقع پر اپنے فرائض کو كَمَا حَقُّهُ ادا نہیں کیا ۔ چندہ حفاظت مرکز کا اعلان اپریل سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ لیکن جہاں حیدر آباد، سکندر آباد، کلکتہ اور دور دور کی انجمنوں بلکہ افریقہ تک کی انجمنوں نے اپنے وعدے پورے لکھوا دیئے ہیں وہاں لاہور کی انجمنوں نے ابھی تک اپنے وعدے پورے طور پر نہیں لکھوائے ۔ ادائیگی تو دور کی چیز ہے صرف وعدے کا سوال تھا جو ایک بنیا بھی کر لیتا ہے اور کہتا ہے ” ہمارا مال سو تمہارا مال ۔ مگر ایک بنیا بھی اپنے جوش میں جس قدر ا ظہار کر دیتا ہے اتنا بھی لاہور کی جماعت نے نہیں کیا ۔ ادائیگی کا جو کچھ حال ہے اُس کی میں نے تحقیق نہیں کی ۔ لیکن جو شخص وعدہ میں کمزور ہو وہ یقیناً ادائیگی میں بھی سستی دکھاتا ہے۔ پھر مرکز کی تبدیلی کے لئے جو ہمیں کوششیں کرنی پڑی ہیں اُن میں بھی جماعت لاہور کوئی اچھا نمونہ نہیں دکھا رہی ۔ آخر اس جگہ پر قادیان کے سارے دفاتر اور تمام کا رکن نہیں آئے ۔ وہ سب کے سب اپنی جانیں ہتھیلی پر لئے ہوئے خدا تعالیٰ کے شعائر کی حفاظت میں لگے ہوئے ہیں ۔ لاہور کے آدمی آرام اور اطمینان سے پاکستان کے ہیڈ کوارٹر میں بیٹھے میٹھی نیند سوتے اور مسکراتے ہوئے جاگتے ہیں ۔ اور