خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 279

خطبات محمود 279 سال 1947ء دین کو قائم کریں۔تو پھر یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ سُورج ڈوبے اور پھر نہ چڑھے اور ہم اس کے چڑھنے کا انتظار کرتے رہیں۔یا سورج چڑھے اور وہ نہ ڈوبے اور ہم اُس کے ڈوبنے کا انتظار کرتے رہیں۔مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ بڑی سے بڑی آفت بھی اسلام کو کوئی نقصان پہنچا سکے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق پرانی کتابوں میں آتا ہے کہ وہ کونے کا پتھر ہے جس پر وہ گرے گا سے چکنا چور کر دے گا اور جو اس پر گرے گا وہ بھی چکنا چھو ر ہو گا 2۔سو یقیناً ہم آئندہ ابتلاؤں کامیاب ہوں گے۔لیکن یہ خوشی انہی کے لئے ہو گی جو اس وقت ہلاکت کے سمندر میں اپنے آپ کو یہ کہتے ہوئے ڈال دیں گے کہ: ہر چه بادا باد ما کشتی در آب انداختیم الفضل 17 ستمبر 1947 ء) 1 باغستان باغستان اُس علاقہ کو کہتے ہیں جو تقسیم سے قبل سر کا رانگریزی کی سرحد اور افغانستان کی سرحد کے پاس واقع ہے۔افغان سرحد کا تعین ڈیورنڈ کمیشن نے کیا تھا اور اُس وقت یہ تمام علاقہ انگریزوں کا حلقہ اثر کہلاتا تھا۔لیکن در حقیقت وہاں کوئی حکومت نہیں تھی اس لئے اُسے باغستان کہتے تھے جس کے لفظی معنی یہ تھے کہ باغیوں کا ملک ( مشاہدات کابل و یاغستان مصنفہ مولوی محمد علی قصوری) 2 متنی باب 21 آیت 42 تا 44