خطبات محمود (جلد 28) — Page 278
سال 1947ء 278 خطبات محمود ایسے اوقات قربانی اور کام کرنے کے ہوتے ہیں ۔ مگر بہر حال ایک دفعہ دنیوی لحاظ سے ہماری جماعت کی بنیادیں بظاہر ہل گئی ہیں ۔ اور اب اللہ تعالیٰ امتحان لینا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ از سرنو ان بنیادوں کو مضبوط کیا جائے ۔ اور اللہ تعالیٰ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کتنے ہیں جو ایمان اور اخلاص کے میدان میں پورے اُترتے ہیں اور کتنے ہیں جو قربانی اور ایثار سے کام لے کر اپنے ایمانوں پر مہر ثبت کرتے ہیں ۔ انہی مسائل پر روشنی ڈالنے کے لئے میں قادیان سے آیا ہوں کہ جماعت کے سامنے اُن امور کو پیش کروں جن کے متعلق میں مشورے کی ضرورت سمجھتا ہوں ۔ میں آج جماعت سے صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ یہ اُس کے امتحان کا وقت ہے۔ ایسے موقع پر ہر شخص کو مرد میدان ثابت ہونا چاہیئے اور جو شخص ایسے وقت میں مردِ میدان ثابت نہیں ہوتا اُسے پکڑ کر پکڑ کر کھڑا رکھنا بھی جائز نہیں ہوتا ۔ ایسے ہوتا ۔ ایسے شخص کو اب جلدی ہی جماعت سے علیحدہ ہونا پڑے گا۔ اب جماعت کو ایسے امتحانات پیش آنے والے ہیں کہ جن کے بعد وہی لوگ اس جماعت میں شامل رہ سکیں گے جو قربانیوں میں شامل ہوں گے۔ باقی لوگوں کو اُن کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا جائے گا ۔ وہ زمانہ چلا گیا کہ جب ہم یہ کہتے تھے کہ یہ کچھ ہماری طرف سے خُدا کے لئے پیش ہے ۔ اب وہ زمانہ آ گیا ہے جبکہ ہم یہ یہ نہ کہیں گے کہ یہ چیز ہماری طرف سے پیش ہے بلکہ اب اللہ تعالیٰ کے مقررہ کردہ منتظم ہم سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے مال میں سے اتنا ہم تم کو دیتے ہیں ۔ ہر وہ شخص جو ایسی قربانی سے بچنے کی کوشش کرے گا جماعت میں شامل نہیں رہ سکے گا۔ اگر نوے فیصدی لوگ بھی اس ابتلا میں گر جائیں تو بھی میں یقین رکھتا ہوں کہ بقیہ جماعت سینکڑوں گنے زیادہ کام کر سکے گی ۔ پس تم میں سے ہر شخص کو دعاؤں میں لگ جانا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ اُسے احمدیت میں ثابت قدم رکھے اور سچی قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ایک دن رات میں ہم امن میں رہنے والے جنگ و جدال میں مبتلا کر دیئے گئے اور پُر امن ہندوستان میں رہنے والے یاغستان 1 میں پھینک دیئے گئے ۔ لیکن اگر یہ صحیح ہے کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا کوئی خدا ہے اور اگر یہ صحیح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دین سچا ہے اور اللہ تعالیٰ کا قائم کردہ دین ہے اور اگر یہ درست ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین میں کمزوری پیدا ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا تا کہ آپ دوبارہ اس