خطبات محمود (جلد 28) — Page 17
خطبات محمود 17 سال 1947ء ہے۔مومن کامل کی غیرت اس سے بہت زیادہ ہونی چاہئیے۔پس دفتر دوم والوں کو چاہیے کہ وہ بھی غیرت کا ثبوت دیں اور کہہ دیں کہ ہم کسی دوسرے کا سہارا نہیں لیں گے۔بلکہ ہم پر جو بوجھ پڑے گا ہم اُسے برداشت کریں گے۔اور دفتر اول والوں یا دفتر سوم والوں کے ریز روفنڈ سے اپنی ضروریات پوری نہیں کریں گے۔جیسا کہ میں پہلے کئی دفعہ بتا چکا ہوں۔جب دفتر اول کا کام ختم ہو جائیگا تو دفتر سوم شروع کر دیا جائے گا تا کہ دفتر دوم کام چلاتا رہے اور دفتر سوم اپنا ریز رو فنڈ جمع کرتا رہے۔اور جب دفتر دوم کا کام ختم ہو دفتر سوم اس قابل ہو کہ اس بوجھ کو اٹھا سکے۔پس اگر دفتر دوم والے دفتر اول والوں کے ریز روفنڈ سے یا دفتر سوم والوں کی مدد سے بوجھ اٹھا ئیں تو وہ پست حوصلہ اور دون ہمت ہونے کی مثال قائم کرنے والے ہوں گے۔جب تک یہ روح نو جوانوں میں کام نہیں کرتی اور جب تک وہ اس قابل نہیں بنتے کہ اپنا کام اپنے وقت میں اپنے قائم کردہ فنڈ سے چلائیں اُس وقت تک وہ گردن اٹھا کر قوم کے سامنے یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم غیرتمند ہیں۔پس ہے نوجوانوں کو اپنے عزم مضبوط کرنے چاہئیں اور اپنے حوصلے بلند کرنے چاہئیں تا کہ گزشتہ جماعتوں کی طرف ان کی نظر اوپر سے نیچے کی طرف آئے۔جس طرح پہاڑ پر چلنے والا آدمی نیچے کے لوگوں کو دیکھتا ہے۔دوسری بات جس کی طرف جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس سال ہمارے پچاس واقفین جو کہ بطور دیہاتی مبلغین کے تعلیم حاصل کر رہے تھے تعلیم سے فارغ ہو جائیں گے اور تبلیغ کرنے کے لئے مختلف مقامات پر متعین کر دیئے جائیں گے۔آئندہ سال کے لئے ہمیں کم از کم پچاس اور مبلغین کی ضرورت ہے۔مجھے اس کے متعلق اطلاع نہیں دی گئی کہ کتنی درخواستیں اب تک موصول ہوئی ہیں۔چونکہ تحریک تو میں نے کرنی ہوتی ہے اس لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ مجھے رپورٹ پہنچتی رہے۔لیکن نظارت دعوۃ وتبلیغ کی طرف سے ابھی تک مجھے کوئی اطلاع نہیں ملی۔ایک مسل کے ذریعہ مجھے سرسری طور پر یہ علم ہوا ہے کہ پندرہ سولہ درخواستیں آچکی ہیں۔اور اب ممکن ہے ہیں پچپیس ہو گئی ہوں۔لیکن ہمیں کم از کم پچاس آدمیوں کی ضرورت ہے۔جن لوگوں کی اتنی تعلیم نہیں کہ وہ اعلیٰ درجہ کے مبلغ بن سکتے ہوں اور وہ اپنے دل میں خدمت دین