خطبات محمود (جلد 28) — Page 242
سال 1947ء 242 خطبات محمود شاید لوگوں کے دلوں میں اتنی سختی اور بغض پیدا نہ ہوتا ۔ مگر جن لوگوں کو خدا تعالیٰ نے اس بلاء سے بچایا ہے اُنہیں تو ان حالات سے سبق حاصل کرنا چاہیئے اور اُنہیں سوچنا چاہیئے کہ جو کچھ ایک جگہ ہوا ہے وہ دوسری جگہ بھی ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ سیاسی تغیرات کے ماتحت حکومتیں بھی ایسے قانون پاس کر دیا کرتی ہیں کہ جن کی رو سے افراد کی جائیدادیں اُن کی اپنی جائیدادیں نہیں رہتیں بلکہ وہ حکومت کی ملکیت سمجھی جاتی ہیں۔ جیسے روس کے علاقہ میں حکومت نے ساری جائیدادیں ضبط کر لی ہیں اور کسی کی ملکیت اُس کی ذاتی ملکیت نہیں رہی ۔ ایسی صورت میں یکدم سو فیصدی دینا پڑتا ہے۔ اور پھر سو فیصدی دینے کے باوجود بھی ثواب نہیں ملتا ۔ مگر یہاں کسی کا اپنی جائیداد کا سو فیصدی صرف زبانی پیش کرنا اور اس میں سے صرف ایک فیصدی دے دینا اور اس طرح ثواب بھی حاصل کرنا اور جماعتی ترقی اور تنظیم میں بھی محمد ہو جانا کتنی آسان قربانی ہے۔ اور انسان کا دل اس سے کتنی تستی پاتا ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ اپنے مال کو دوسروں کے ہاتھوں تباہ کر لیتا اُس نے خدا تعالیٰ اور اُس کے دین کے لئے اپنا مال وقف کر دیا ۔ پس جو لوگ اب تک اس تحریک میں حصہ نہیں لے سکے میں اُن کو توجہ دلاتا ہوں اور اس کے ساتھ ہی اُن لوگوں کو بھی جنہوں نے اس تحریک میں وعدہ تو کیا ہے لیکن ابھی تک ادائیگی نہیں کر سکے کہ وہ اس چندہ کی ادائیگی میں سُستی اور غفلت سے کام نہ لیں ۔ اِس وقت تک جو کچھ وصولی ہوئی ہے وہ بہت ہی افسوسناک ہے۔ تحریک کرتے وقت کہا تو یہ گیا تھا کہ یہ رقم چھ ماہ کے اندر وصول ہو جائے۔ لیکن جس رنگ میں وصولی ہو رہی ہے اُس سے میں نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ رقم چھ سال میں بھی وصول نہیں ہو سکتی ۔ حالانکہ اس چھ ماہ کے عرصہ میں زمینداروں کے لئے صرف فصل ربیع ہی ایک ایسا موقع تھا جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اپنے وعدوا اپنے وعدوں کی ادائیگی کر سکتے تھے۔ لیکن ربیع کی فصل آئی اور جا بھی چکی ۔ اگر انہوں نے اب یہ رقم ادا نہ کی تو آئندہ مہینوں میں وہ کسی طرح ادا نہیں کر سکیں گے ۔ جب تک گندم ان کے پاس ہے یا جب تک گندم کا رو پید ان کے پاس ہے وہ توفیق رکھتے ہیں کہ اپنے اپنے وعدوں کی ادائیگی کرتے ہوئے اس بار سے سبکدوش ہو جائیں اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں ۔ لیکن جب گندم ان کے پاس نہ رہے گی اور گندم کا روپیہ ان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہو گا تو آئندہ صرف ماش یا گنا یا کپاس یا تو ریا یا سرسوں کی فصلوں پر ہی یا