خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 235

خطبات محمود 235 سال 1947ء گھروں کی کمزور چھتیں ٹپکنے لگتی ہیں تو تم کتنے افسردہ خاطر ہوتے ہو۔مگر اندازہ تو لگا ؤ اُن بے گھر اور بے درلوگوں کے متعلق کہ اس شدید گرمی کے موسم میں جبکہ خالی دھوپ ہی نا قابلِ برداشت ہے اور گرم کو چہروں کو جھلس رہی ہے وہ لوگ کیا کرتے ہوں گے۔اور پھر تصور تو کرو اس حالت کا جبکہ شہر میں آگ لگی ہوئی ہو اور لوگ بھاگتے پھر رہے ہوں۔اُن کی کیا حالت ہوتی ہو گی ؟ اور ان حالات کا ایک مومن کے دل پر کتنا گہرا اثر پڑتا ہے۔پس خدا تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ لڑائیاں اور فتنے اور فسادات سوائے قرآن کریم کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کے دور نہیں ہوئی سکتے۔قرآن پڑھو کا صرف یہی مطلب نہیں کہ قرآن کریم کھول کر تلاوت کر لی جائے۔بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کیا جائے اور اس کے حکمت بھرے احکام کی تمام دنیا میں اشاعت کی جائے۔کیونکہ یہ آگیں اُس وقت تک بجھ نہیں سکتیں جب تک فطرتوں کے اندر تبدیلی پیدا نہ ہو جائے اور بنی نوع انسان کی صحیح معنوں میں اصلاح نہ ہو جائے۔اور ان کی فطرتوں کے اندر نرم دلی اور رحمدلی نہ پیدا ہو جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھو کہ آپ کے اندر کتنا زیادہ رحم پایا جاتا تھا۔آپ تو کسی جانور کو دکھ دینے کو بھی برداشت نہ کر سکتے تھے۔کجا یہ کہ زندہ انسانوں کو جلا دیا جائے۔گزشتہ فسادات میں کئی ایسے واقعات سننے میں آئے ہیں کہ زندہ لوگوں کو اٹھا اٹھا کر آگ میں پھینک کر جلا دیا جاتا رہا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ آپ نے ایک دفعہ دیکھا کہ کچھ لوگ لوہے کو تاپ کر ایک گدھے کے منہ پر نشان لگا رہے تھے (لوگ اپنے جانوروں کو لوہا گرم کر کے نشانات لگا دیتے تھے تا کہ چُرائے نہ جا سکیں۔آپ نے دیکھ کر فر مایا ای لوگ گدھے کو یہ نشان کیوں لگا رہے ہو اور خدا تعالیٰ کی مخلوق کو عذاب کیوں دیتے ہو؟ اُنہوں نے کہا یا رسول اللہ! یہ نشان لگانا اس لئے ضروری ہے کہ اسے کوئی پچرا نہ سکے۔اس کے بغیر ہمارے جانور محفوظ نہیں رہ سکتے۔آپ نے فرمایا اگر نشان لگانا اتنا ہی ضروری ہے تو پیٹھ پر لگا نا چاہیئے جہاں کا چمڑا سخت ہوتا ہے۔چہرے کے اعصاب چونکہ نازک ہوتے ہیں اس لئے چہرے پر نہیں لگانا چاہیئے۔2 اسی طرح ایک دفعہ آپ نے دیکھا کہ چونٹیوں کے سوراخوں کو آگ لگا دی گئی ہے۔صحابہ چونکہ جنگ کے ایام میں زمین پر سوتے تھے اور اُس دن جہاں لشکر اُترا تھا وہاں چیونٹیوں کے