خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 228

خطبات محمود 228 سال 1947ء ایک حصے نے وقت پر اپنے وعدے بھجوا دیئے ہیں تو اس سے وہ حصہ جس نے اپنے وعدے نہیں بھجوائے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مجرم بن جاتا ہے۔اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ عذر پیش نہیں کر سکتے کہ یہ ایسا کام تھا جسے ہم پورا نہیں کر سکتے۔اگر تو دس فیصدی لوگ اس میں حصہ لیتے تو وہ اور کہہ سکتے تھے کہ یہ ایسا کام تھا جسے صرف طاقتور آدمی ہی کر سکتے تھے۔لیکن اب جبکہ دو تہائی جماعتوں نے اپنے وعدے بھجوا دیئے ہیں تو حصہ نہ لینے والوں پر سختی کے ساتھ محبت ہو گئی ہے۔کیونکہ جب تین میں سے دو آدمی ایک کام کو کر لیتے ہیں تو تیسرا آدمی کیوں نہیں کر سکتا۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کام جماعت کی طاقت کے اندازہ کے مطابق ہے۔پس جو لوگ باقی رہ گئے ہیں اُن کو سوچنا چاہیئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور کیا جواب دیں گے۔اس کام کو جلدی سرانجام دینے کے لئے باہر مبلغ بھی بھیجے گئے ہیں۔مبلغین کا فرض ہے کہ وہ جماعتوں کے وعدے بہت جلد بھجوائیں۔اور جہاں مبلغ یا انسپکٹر بیت المال نہ پہنچے ہوں اُن جماعتوں کو چاہیئے کہ وہ خود ہی وعدے بھجوا دیں۔جماعت کے 1/3 حصہ کے وعدوں کا نہ آنا ایک نا پسندیدہ اور افسوسناک امر ہے۔ابھی دس دن باقی ہیں۔اور ایک ہفتہ بعد تک وعدے پہنچتے رہتے ہیں۔اس لحاظ سے سترہ دن بنتے ہیں۔گویا قادیان میں وعدوں کے پہنچنے کے لحاظ سے سترہ دن ہیں اور اپنی اپنی جگہوں سے وعدے بھجوانے کے لحاظ سے دس دن ہیں۔پس سب جماعتیں چھوٹی یا بڑی ، دُور کی یا قریبی کی جلد سے جلد اپنے وعدوں کی تکمیل کر کے فہرستیں قادیان میں بھجوا دیں۔جماعت کو اِس نازک وقت میں ایک دفعہ پھر اپنے ایمان اور اخلاص کا ثبوت دنیا کے سامنے پیش کر دینا چاہیئے۔اور دنیا پر یہ حجت قائم کر دینی چاہیئے کہ جماعت احمد یہ اخلاص اور قربانی میں موجودہ تمام قوموں سے برتر الفضل 24 جون 1947 ء ) اور بالا ہے۔1: الزمر : 37