خطبات محمود (جلد 28) — Page 227
خطبات محمود 227 سال 1947ء وو جائیں۔بہر حال میں اس کی یہ تقسیم کر چکا ہوں کہ آدھی ہندوستان کے لئے اور آدھی غیر ممالک کے لئے۔جو دوست یہ کتاب خریدیں انہیں چاہیئے کہ خود پڑھنے کے بعد دوسروں کو بھی پڑھوائیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کتاب کا دیباچہ ایسا شاندار لکھا گیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت سے لوگوں کے لئے ہدایت کا موجب بن سکتا ہے۔اور میرا ارادہ ہے کہ ایک بہت بڑی تعداد میں اس دیباچہ کو الگ چھپوایا جائے۔نہ صرف انگریزی بلکہ اردو، ہندی ، گورمکھی اور دوسری زبانوں میں اس کے تراجم شائع کئے جائیں۔اس دیباچہ میں اسلام کی صداقت کے ایسے دلائل بیان کئے گئے ہیں کہ ان کے ذریعہ قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوگی اور پھر دیباچہ کے ساتھ جو شخص قرآن کریم کا ترجمہ اور اس کے نوٹ بھی پڑھے گا تو یہ سونے پر سہا گہ اور موتیوں میں دھاگہ والی مثال ہو گی۔پس دوستوں کو جلد سے جلد اپنی کتابیں منگوا لینی چاہئیں تا کہ ہماری لائبریری سے یہ کتابیں نکل جائیں۔جب ایک جلد نکل جاتی ہے تو دوسری جلد کی فکر پیدا ہوتی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ جب اردو کی تفسیر کی ایک جلد نکل جاتی ہے تو محکمہ والوں کو دوسری جلد کی تیاری کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح اگر یہ جلد ختم ہوگئی تو محکمہ دوسری جلد کی طرف زیادہ توجہ کر سکے گا۔میں سمجھتا ہوں کہ انشاء اللہ اس جلد کے ذریعہ ایک ہیجان پیدا ہوگا۔اور اس کی دوسری جلدیں شائع کرنے کا بھی ابھی سے تقاضا شروع ہو جائے گا۔دوسری بات میں حفاظت قادیان کے سلسلہ میں کہنی چاہتا ہوں۔میں نے اس کے وعدوں کی میعاد تمیں جون تک بڑھا دی ہے۔جن جماعتوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی انہوں نے 31 مئی تک ہی اپنے وعدوں کی مکمل فہرستیں بھجوا دیں۔لیکن وہ جماعتیں جو رہ گئیں اور اُنہوں نے یہ اپنے وعدے نہیں بجھوائے وہ ابھی ایک تہائی ہیں۔یعنی آٹھ سو کے قریب جماعتوں میں سے پار سو سے اوپر کے وعدے آئے ہیں اور دوسو پچاس کے وعدے نہیں آئے۔یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ہم تو یہ بھی پسند نہیں کرتے کہ ایک فیصدی جماعتیں بھی حصہ لینے سے باقی رہ جائیں کی کجا یہ کہ 33 فیصدی حصہ پیچھے رہ جائے۔پس میں پھر جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اپنے وعدوں کی تعمیل کر کے مرکز میں بھجوا دیں۔میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ جب جماعت کے