خطبات محمود (جلد 28) — Page 226
خطبات محمود 226 سال 1947ء سے جو لوگ آرڈر دے رہے ہیں اُن کو جلدیں مہیا نہیں کی جاسکتیں۔اس وجہ سے غیر ممالک والے یہ شکایت کر رہے ہیں کہ ہم ہی اس کے سب سے زیادہ مستحق تھے اور ہمیں ہی محروم کیا جا رہا ہے۔وہ کہتے ہیں ہندوستان کے لوگوں کو چونکہ پہلے اطلاع مل جاتی ہے اس لئے وہ جلد ہی خرید لیتے ہیں اور ہمیں دیر سے اطلاع پہنچتی ہے اور ہما را جواب بھی دیر سے پہنچتا ہے اتنی دیر میں ایسی چی چیزیں ختم ہو جاتی ہیں۔چنانچہ امریکہ اور افریقہ سے جو آرڈر آئے تھے وہ دفتر نے رڈ کر دئیے کہ اب جلد میں مہیا نہیں کی جاسکتیں۔اس سے اُن کو بہت تکلیف ہوئی۔میں نے اس کے لئے فی الحال یہ فیصلہ کیا ہے کہ غیر ممالک سے جو لوگ آرڈر دیں اُنہیں اِن ایک ہزار جلدوں میں سے جو کہ لائبریریوں اور غیر مسلموں میں تقسیم کے لئے رکھی گئی ہیں دے دی جائیں۔کیونکہ غیر ممالک والے اس کے زیادہ مستحق ہیں اور انہیں محروم نہیں کیا جاسکتا۔امریکہ کی لجناؤں کی طرف سے بھی جلدوں کی مانگ آئی ہے اور مغربی افریقہ سے امیر نے لکھا ہے کہ ہم نے غیر احمد یوں سے پانچ پانچ سال سے اس ترجمہ کے لئے قیمتیں وصول کی ہوئی ہیں اُن کو اب جواب دینا مشکل ہے۔ان حالات کے پیش نظر میں نے یہ تجویز کی ہے کہ ان لوگوں کو بھی باقی ساڑھے تین سو جلدوں میں سے حصہ دے دیا جائے۔مگر پھر بھی ممکن ہے کچھ تقسیم کی جانے والی جلد میں رہ جائیں۔اس لئے میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ قربانی اور ایثار سے کام لیتے ہوئے اس کتاب کی جتنی زیادہ سے زیادہ اشاعت ہو سکے کی جائے۔کیونکہ اس کتاب کی جتنی زیادہ اشاعت ہوگی اتنا ہی زیادہ فائدہ ہوگا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جلد ہی ہمیں اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن چھپوانا پڑے گا کیونکہ یہ ایڈیشن جلد ہی ختم ہو جائے گا اور دوسرے ایڈیشن کے چھپوانے کی بہت جلد ضرورت پیش آئے گی۔دوسرے یہ کتاب ہندوستان میں چھی ہے۔اور غیر ممالک میں جس قسم کی چھپائی ہوتی ہے ویسی چھپوائی ہندوستان میں نہیں ہو سکتی۔اس لئے ہو سکتا ہے کہ یہ کتاب غیر ممالک والوں کے لئے اتنی دلچسپی کا موجب نہ بنے جتنی کہ اُن کے اپنے ملک کی چھپی ہوئی کتاب میں ہو سکتی ہے۔بہر حال اتنی بڑی کتاب آسانی سے دوبارہ نہیں چھپ سکتی۔ہندوستان کے بعض دوستوں کی یہ رائے ہے کہ چونکہ یہ کتاب ہندوستان میں چھپی ہے اس لئے اسے صرف ہندوستان کے لئے ہی رکھ لیا جائے اور غیر ممالک والے کہتے ہیں کہ ہمارا حق مقدم ہے۔ہندوستان والے تو فائدہ اٹھاتے ہی رہتے ہیں یہ ساری جلد میں ہمیں دے دی