خطبات محمود (جلد 28) — Page 225
خطبات محمود 225 سال 1947ء کی پہلی جلد چھپ کر آ گئی ہے۔یہ جلد آج سے کچھ عرصہ پہلے آ جانی چاہئے تھی مگر لاہور کے فسادات کی وجہ سے پریس بند رہے یا بہت کم کام ہوتا رہا۔اس لئے بجائے اپریل میں مکمل ہونے کے یہ جلد جون میں مکمل ہوئی ہے۔یہ جلد ساڑھے بارہ سو صفحے کی ہے۔ابتدائی مضامین کا دیباچہ جو کہ میں نے لکھا ہے وہ دو سو بہتر صفحات کا ہے۔یعنی یہ مضمون اردو کے عام کتابی سائز کے لحاظ سے پانچ چھ سو صفحات میں آئے گا۔اس دیباچے کے کچھ حصہ کا ترجمہ پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب نے کیا ہے اور کچھ حصہ کا ترجمہ چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے کیا ہے۔یہ دونوں احباب ہماری جماعت میں انگریزی کی اچھی قابلیت رکھتے ہیں اور نہایت عمدہ طور پر لکھنے والے ہیں جن کی وجہ سے ترجمہ بہت اعلیٰ ہوا ہے۔گومیں اس دیباچہ کے ترجمہ کی نظر ثانی نہیں کر سکا اور میرا خیال ہے کہ اگر نظر ثانی ہو جاتی تو نظر ثانی میں بعض جگہ ترجمہ زیادہ سادہ ہو سکتا تھا جو کہ اب نسبتا پیچیدہ ہو گیا ہے۔لیکن پھر بھی یہ ترجمہ نہایت لطیف ہے۔کتاب کے چھپنے کے بعد میں نے اسے پڑھنا شروع کیا تو وہ مجھے ایسا دلچسپ معلوم ہوا کہ باوجود غیر زبان میں ترجمہ ہونے کے بعض اوقات ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا یہ مضمون ہی انگریزی میں لکھا گیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اب جبکہ اس کتاب کی پہلی جلد مکمل ہو کر آگئی ہے ہماری جماعت کا فرض شروع ہوتا ہے۔کتاب کا لکھا ہے جانا اور بات ہے اور کتاب کا چھپ جانا اور بات ہے اور کتاب کی اشاعت کرنا اور بات ہے۔جنگ کی دقتوں اور اخراجات کی زیادتی کی وجہ سے بہت تھوڑی جلد میں شائع کرائی گئی ہیں۔یعنی گل دو ہزار جلد میں چھپوائی گئی ہیں۔جس میں سے ایک ہزار تو لائبریریوں، اور سیاسی اقتدار رکھنے والے آدمیوں اور علمی مذاق کے لوگوں میں تقسیم کی جائیں گی اور ایک ہزار جلدیں جماعت کے دوستوں میں تقسیم کرنے کے لئے ہیں۔جو حصہ جماعت کے لئے مقرر کیا گیا ہے وہ تو فروخت ہو چکا ہے اور اب جن جماعتوں کی طرف سے آرڈر آرہے ہیں دفتر انہیں رڈ کر رہا ہے۔اور ایک ماہ سے زائد کا عرصہ ہوا یہ ایک ہزار جلد پوری ہو چکی ہے۔اور بیرونی ممالک کی لائبریریوں وغیرہ کے لئے جو ایک ہزار جلد رکھی گئی ہے اُس میں سے بھی ساڑھے چھ سو جلد میں فروخت ہو چکی ہیں اور ساڑھے تین سو باقی ہیں۔ہندوستان سے باہر کے لوگ چونکہ اردو نہیں جانتے اس لئے وہ انگریزی ترجمہ سے ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔لیکن اب حالت یہ ہے کہ غیر ممالک