خطبات محمود (جلد 28) — Page 223
خطبات محمود 223 سال 1947ء اور تجارت کے معاملہ میں آزادی ہوگی۔اگر یہ طریق اختیار کیا جائے تو امید کی جاسکتی ہے کہ ملک میں اتحاد کی روچل جائے اور دلوں میں مل بیٹھنے کی خواہش پیدا ہو۔اور ہمارا ملک ایک نام والا اور ایک کام والا بن جائے۔پس دعائیں کرو، دعائیں کرو اور دعائیں کرو۔اگر آپ لوگوں کو خود ان باتوں کی اہمیت کا پوری طرح احساس نہیں تو ایک ایسے شخص کے بتانے پر جو ان حالات کی اہمیت کو خوب سمجھتا ہے بیدار اور ہوشیار ہو جاؤ اور وقت پر اپنے مولا کے حضور گر جاؤ۔اگر ہم اقلیت میں ہیں تو اللہ تعالیٰ کے پاس تو سب طاقتیں ہیں۔اگر ہم بے بس اور بے کس ہیں تو اللہ تعالیٰ تو بے بس اور بے کس نہیں۔وہ چاہے تو ملک کے فیصلے کرنے والوں کو عقل اور سمجھ دے سکتا ہے کہ وہ ملک کا بٹواره ای ایسے طور پر کریں کہ ملک میں بجائے تفرقہ اور شقاق کے اتفاق اور اتحاد قائم ہو جائے۔“ (الفضل 16 جون 1947ء ) بزار این کن کھجو را۔ایک لمبا کیا جس کی بہت ہی ناک میں ہوتی ہیں۔"OUT OF THE FRYING PAN INTO THE FIRE۔”:2