خطبات محمود (جلد 28) — Page 222
خطبات محمود 222 سال 1947ء اس نازک موقع پر سیاسی کارفرماؤں کو بھی نہایت ہی عقل اور سمجھ کے ساتھ قدم اٹھانا چاہیئے اور لوگوں کی تکالیف کو مدنظر رکھنا چاہیئے۔تمام پارٹیوں کے سیاسی منشاء تو پورے ہو گئے۔یعنی ہندوؤں کی بھی من مانی مرادیں بر آئی ہیں اور مسلمانوں کو بھی علیحدہ حصہ مل گیا اور سکھوں کی بھی یہ خواہش بر آئی کہ ہم مسلمان علاقہ کو بٹوا کر چھوڑیں گے۔اب اِن سب پارٹیوں کو چاہیئے کہ وہ آپس میں آزادانہ طور پر ملک کی بہتری کے لئے ایسا سمجھوتہ کریں جس سے ہر قوم کی الگ حیثیت بھی قائم رہے اور شہریت کے حقوق بھی سب کو حاصل ہو جائیں۔ماتحت اور مغلوب قوم سے سمجھوتہ کرنے کا اور طریق ہوتا ہے اور ایک برابر کی اور آزاد قوم سے سمجھوتہ کرنے کا اور طریق ہوتا ہے۔پس اب جبکہ دونوں تو میں آزاد ہو گئی ہیں وہ آپس میں معاہدہ کر لیں کہ وہ حکومت کے لحاظ سے بیشک الگ الگ ہونگی لیکن شہریت کے حقوق تمام علاقوں کے افراد کو ایک دوسرے کے ملک میں حاصل ہوں گے۔اس طرح امید کی جاسکتی ہے کہ آہستہ آہستہ پہلے جیسی حالت پیدا ہو جائے گی اور دونوں تو میں آپس میں مل بیٹھیں گی۔پچھلی جنگ میں جب فرانس کو شکست ہوئی تو حکومتِ برطانیہ نے فرانس کو یہ پیشکش کی کہ برطانیہ اور فرانس کے شہری حقوق ایک ہونگے حالانکہ برطانیہ اور فرانس ایسے ممالک ہیں جن کی زبانیں الگ الگ ہیں اور بعض اوقات وہ آپس میں برسر پیکار بھی رہی ہیں۔لیکن ایک نازک سیتی موقع پر برطانیہ نے فرانس کو شہریت کے حقوق کی پیشکش کی۔اسی طرح اب ہندوستان میں بھی ہو سکتا ہے کہ حکومتیں آپس میں یہ فیصلہ کر لیں کہ ہماری حکومتیں بے شک آزاد ہونگی لیکن ایک مشرقی بنگال کے رہنے والے کو مغربی بنگال میں وہی حقوق حاصل ہوں گے جو وہاں کے باشندوں کو حاصل ہیں۔اور اُسے مغربی بنگال کا باشندہ ہی تصور کیا جائے گا۔اسی طرح مغربی بنگال والے کو مشرقی بنگال میں وہی شہریت کے حقوق حاصل ہونگے جو مشرقی بنگال والے کو حاصل ہیں۔اور ی مشرقی پنجاب والے کو مغربی پنجاب میں وہی شہریت کے حقوق حاصل ہوں گے جو مغربی پنجاب میں رہنے والے کو حاصل ہیں۔اور مغربی پنجاب والے کو پوربی پنجاب میں وہی شہریت کی کے حقوق حاصل ہوں گے جو پوربی پنجاب میں رہنے والے کو حاصل ہیں اور ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں جانے کے لئے پاسپورٹ وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔اور ہر آدمی کو جائیداد