خطبات محمود (جلد 28) — Page 219
سال 1947ء 219 (22) خطبات محمود تمام جماعت کو التزام کے ساتھ یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو نا قابل برداشت فتنوں سے بچائے )فرمودہ 13 جون 1947ء( تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: وو آجکل ہمارے ملک پر ابتلاء کے بعد ابتلاء آ رہا ہے اور ہر آنے والا معاملہ پہلے کی نسبت زیادہ سنگین اور شدید صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس وقت تے تقسیم ملک کا سوال در پیش ہے اور اس کے متعلق جس جس رنگ میں تجویزیں پیش ہو رہی ہیں اُن کو دیکھتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ ہمارا ملک کہیں ایسی شکل نہ اختیار کر جائے جیسا کہ ہزار پائے 1 کے پاؤں ہوتے ہیں ۔ اگر خدا نخواستہ ملک کے چھوٹے چھوٹے حصے کر دیئے گئے تو کوئی حصہ بھی آزادی کے ساتھ ترقی نہیں کر سکے گا۔ اگر یہی جوش و خروش رہا تو ملک کا چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم ہو جانا کوئی بعید از قیاس بات نہیں ۔ پھر اگر ملک کے ایک حصہ سے دوسرے حصہ میں جانے کے لئے پاسپورٹ کی شرط لگا دی گئی تو اس کی ایسی ہی شکل بن جائے گی جیسا کہ ننگل کا رہنے والا آدمی بھینی جانے کے لئے پاسپورٹ حاصل کرے۔ یا بھینی کا رہنے والا آدمی نگل جانے کے لئے پاسپورٹ حاصل کرے۔ اور یہ صورت حال قیدیوں سے بھی بدتر ہوگی ۔ قیدی تو شہر میں سے کچھ تھوڑے سے افراد ہوتے ہیں تمام کے تمام لوگ جرائم کا ارتکاب نہیں کرتے لیکن اس صورت میں تو سب لوگ ہی قیدی بن جائیں گے ۔ سیر کرنے کے لئے اگر کوئی شخص گھر سے نکلے گا تو ابھی اس کی ٹانگیں بھی